اورجہنم جیسی بھی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والاسورہاہو۔(1)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہرات کے وقت فرماتے:’’جہنم کی گرمی نے نیند اڑادی ہے۔‘‘یہ کہہ کر صبح تک نہ سوتے پھر جب دن نکلتا تو فرماتے: ’’جہنم کی گرمی نے نیند اڑادی ہے ۔‘‘یہ کہہ کر شام تک نہ سوتے۔پھر جب رات ہوتی تو فرماتے:’’جسے خوف ہوتا ہے وہ رات ہی کو سفر شروع کردیتا ہےاور لوگ صبح کو رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں۔‘‘(2)
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں چار مہینے تک حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہالیکن میں نے انہیں رات یا دن کے کسی وقت میں سوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
فضائِلِ صحابہ بزبان علی:
(29)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکےاصحاب میں سے ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی اقتدا میں فجر کی نماز پڑھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسلام پھیر کر دائیں طرف مڑ گئے،چہرۂ مبارک پرافسردگی کے آثار تھے۔ طلوعِ آفتاب تک اسی طرح بیٹھے رہے پھرہاتھ کو پلٹااور فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے آج تک صحابَۂ کرام کی مثل کسی کو نہیں دیکھا، وہ خوف اوراداسی کی حالت میں صبح کرتے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاپانے کے لئے پوری رات سجدے اور قیام میں گزاردیتے، اٹھتے بیٹھتے قرآن کی تلاوت کرتے،آندھی کے وقت جس طرح درخت ہلتے ہیں اس طرح وہ ذکرِخداکے وقت ہلتے،اس قدر گریہ وزاری کرتے کہ آنسوؤں سے کپڑے تر ہوجاتےجبکہ اِس زمانہ کے لوگ غفلت میں رات دن گزار رہے ہیں۔
مجاہدے میں اسلاف کی پیروی:
(30)…حضرت سیِّدُنا ابو مسلم خَولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے گھرمیں نمازپڑھنے کی جگہ ایک چابک لٹکارکھا تھا، اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب صفة جھنم، باب۱۰، ۴/ ۲۷۰، حدیث:۲۶۱۰
موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التھجد وقیام اللیل، باب من کان یقوم اللیل جمیعا، ۱/ ۲۵۸، حدیث:۵۸
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التھجد وقیام اللیل، باب من کان یقوم اللیل جمیعا، ۱/ ۲۵۸، حدیث:۵۸