لئے وضو نہیں فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا: میری رات کبھی جنت کے باغوں میں اور کبھی جہنم کی وادیوں میں گزرتی ہےتو کیا ایسی صورت میں نیند آسکتی ہے؟
(23)…حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: میں کئی عبادت گزاروں سے ملا،ان میں بعض اتناتھک جاتےکہ بستر پرسُریْن کےبل چل کر آتے۔
40سال تک پہلو زمین سے نہیں لگایا:
(24)…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عَیّاش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے40سال تک اپنے پہلو کو زمین سے نہیں لگایا۔(خوف خدا میں رونے کے سبب)ان کی ایک آنکھ میں پانی اُتر آیا(یعنی موتیا کا مرض لاحق ہوگیا)۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے20 سال اسی طرح گزار دیئے مگر گھر والوں کو علم نہ ہوسکا۔
(25)…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا سَمْنُوْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روزانہ 500رکعات نمازادافر ماتے۔
(26)…حضرت سیِّدُناابوبکرمُطَّوِعِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں جوانی میں روزانہ31یا40ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھا کرتا تھا۔راوی کو تعداد میں شک ہے۔
(27)…حضرت سیِّدُنا منصور بن مُعْتَمِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حالت مصیبت زدہ شخص کی طرح معلوم ہوتی ، نگاہیں نیچی اورآواز پست رکھتے، آنکھوں میں آنسو بھرے رہتے،آنکھوں کو حرکت دیتے تو آنسو چھلک پڑتے۔ ان کی والدۂ محترمہ فر ماتیں:”پوری رات كيوں روتے رہتےہو چپ کیوں نہیں ہوتے؟ کیاکسی جان پر ظلم کر بیٹھے ہو؟یا شاید کسی کوقتل کربیٹھے ہو؟“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جواب دیتے:”امی جان !مجھے معلوم ہے میرے نفس نے کیا کیاہے؟“
سیِّدُنا عامر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا مجاہَدہ:
(28)…حضرت سیِّدُنا عامر بن عبداﷲ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےکسی نے پوچھا:”آپ روزے کی حالت میں بھوک وپیاس اوررات کی عبادت میں نیند کس طرح برداشت کرتے ہیں؟“ فرمایا:”میں کھانے پینے کو رات اور نیند کو صبح تک مؤخر کردیتا ہوں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ ‘‘
آپ ہی سے مروی ہے،فرماتے ہیں:میں نے جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کا طالب سورہا ہو