Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
370 - 784
سیِّدُنا اُوَیْس قَرَنی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا مجاہَدہ:
(21)…حضرت سیِّدُنا ربیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے پاس حاضر ہوا۔آپ  فجرکی نماز پڑھ کر مسجد میں تشریف فرماہوئے۔میں بھی بیٹھ گیا اور دل میں کہا کہ میں ان کےذکر واذكارمیں خلل نہیں ڈالوں گا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی جگہ سے ظہر تک نہ  ہلے۔ظہر کی نماز پڑھ کر نفل نماز میں مشغول ہوگئے اور عصر تک نوافل ادافر ماتے رہے۔عصر کی نماز پڑھ کر مسجد میں بیٹھے رہے۔ پھر مغرب کی نماز ادا کی اور مسجد میں بیٹھے رہے حتّٰی کہ نمازِ عشا ادا کی۔پھر فجر تک مسجد ہی میں  رہے۔ فجر کی  نماز ادافر ماکربیٹھے تو نیند آنے لگی۔بارگاہِ الٰہی میں عرض گزارہوئے:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میں زیادہ سونے والی آنکھ اور سیر نہ ہونےوالے پیٹ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“حضرت سیِّدُنا ربیع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے  کہا:میرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ پھر میں لوٹ آیا۔
کیاآپ بیمار ہیں؟
	کسی نے حضرت سیِّدُنااُوَیْس قَرَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی سے کہا:اے ابوعبداﷲ!لگتا ہےآپ بیمار ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”جب کھانے اور سونے والے لوگ بیمار ہو سکتے ہیں تواویس کیونکربیمار نہیں ہوسکتاجبکہ اویس تو کھاتااور سوتابھی نہیں۔“
	حضرت سیِّدُنا احمد بن حَرْب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مجھےاس شخص پر تعجب ہے جسے معلوم ہے کہ اس کے آگے سجی ہوئی جنت اور پیچھے  بھڑکی ہوئی جہنم ہے پھر بھی اسے نیند آجائے۔
سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا مجاہَدہ:
(22)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کےپاس آیا تو آپ  عشا کی نماز پڑھ چکےتھے۔ میں آپ کے انتظار میں بیٹھارہا۔آپ لحاف اُوڑھ کر سوگئے اورپوری  رات کروٹ تک  نہ  بدلی۔فجرکے وقت مؤذن نے اذان دی تووضوکئے بغیر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے؟میرے دل میں وسوسہ آیاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ خیر کرے !رات بھر سوئےپھربھی نمازکے