پس جب علم کا جمال اور شرافت محبوب شے ہے اور یہ بذاتِ خوداپنے موصوف کے لئےزینت اور کمال ہے تو اس سبب کے لحاظ سے فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم کی طرف نسبت کرتے ہوئے تمام علما کا علم جہل(یعنی لاعلمی) ہے، بلکہ اگر کوئی اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالِم کو بھی جانتا ہو اور سب سے بڑے جاہل کو بھی تو یہ محال ہے کہ وہ علم کے سبب اَجہل(بڑے جاہل) سے محبت کرے اور اَعلم (بڑے عالِم) کو چھوڑ دے اگرچہ اَجہل بھی اپنی معیشت(اسبابِ زندگی)سے متعلق علم سے خالی نہیں ہوتا اور جو تفاوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم اور بندوں کے علم کے درمیان ہے وہ اس تفاوت سے بہت زیادہ ہے جو مخلوق میں سب سے اَعلم اور اَجہل کے درمیان ہے کیونکہ اعلم چند متناہی(محدود)علوم کی وجہ سے اجہل پر فضیلت رکھتا ہے کہ اجہل اگر محنت اور کوشش کرے تو وہ بھی ان علوم کو حاصل کر سکتا ہے جبکہ علمِ باری تعالٰی کو مخلوق کے علم پر ایسی فضیلت ہے کہ اس کی انتہا نہیں کیونکہ معلوماتِ الہٰیہ غیر متناہی(لا محدود) ہیں اور مخلوق کی معلومات متناہی ہیں ۔
صِفَتِ قدرت کے لحاظ سے:
صفتِ قدرت بھی کمال ہے جبکہ عِجْز نَقص ہے تو ہر کمال ،عظمت،بزرگی اور غلبہ محبوب ہے اور اس کا ادراک لذیذ ہوتا ہے حتّٰی کہ کوئی شخص جب امیر المومنین حضرتِ سیِّدُناعلیُّ المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرتِ سیِّدُناخالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا دوسرے بہادروں کے واقعات، ان کی قدرت اور ہم عصر طاقتوروں پر ان کے غلبے کے بارے میں سنتا ہے تو وہ لازمی طور پر فقط سننے سے ہی اپنے دل میں حرکت،خوشی اور فرحت پاتا ہے تو پھر مشاہدے کا عالَم کیا ہوگا اور یہ صفت دل میں موصوف کے بارے میں لازمی محبت پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا کمال ہے تو اب تمام مخلوق کی قدرت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کی طرف نسبت کرتے ہوئے دیکھئے۔ چنانچہ جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ قوّت والا، وسیع ملک والا، سخت پکڑ والا، خواہشات پر بہت غالب، نفس کی برائیوں کا بہت قلع قمع کرنے والا،اپنی ذات اور غیر کے بارے میں تدبیر پر سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا ہو تو اس کی قدرت کی انتہا کیا ہے؟اس کی قدرت کی انتہاصرف یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کی بعض صفات پر اور بعض لوگوں پر ان کے کچھ اُمور میں قادِر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ