Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
369 - 784
رکعات ادافرماتے اور روتے ہوئے کہتے:”میرا آدھاعمل کم ہوگیا۔“
(19)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن خُثَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صاحبزادی ان سے عرض کرتیں:ابا جان!کیا وجہ ہے کہ آپ رات کو نہیں سوتے حالانکہ  دیگر لوگ سورہے  ہوتے  ہیں؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے:بیٹی! رات میں اچانک عذاب کے آجانے کا خوف  تیرے والد کو سونےنہیں دیتا۔
مقتول میرا نفس ہے:
	ایک بار حضرت سیِّدُنا ربیع  بن خُثَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی والدہ  محترمہ نے انہیں رات کے وقت روتادیکھ کرپوچھا:”بیٹا!لگتاہے تو نے کسی کو قتل کیا ہے؟“عرض کی:”جی ہاں! امی جان۔“ ماں نے پوچھا:”مقتول کون ہے؟تاکہ  اس کے گھر والوں کو تلاش کرکے ان سے معافی مانگی جائے بخدا!اگر انہیں تمہاری اس حالت کا علم ہوجائے تو تم پر رَحم کرتےہوئے معاف کردیں گے۔“عرض کی:”امی جان! مقتول میرا نفس ہے۔“
(20)…حضرت سیِّدُنا بِشرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے بھانجے حضرت سیِّدُنا عمررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے ماموں نے میری والدہ محترمہ سے کہا:”اے بہن!(کمزوری کی وجہ سے)میرا پیٹ اور پسلیاں درد کر رہی ہیں۔“میری والدہ  نے کہا:”بھائی! اگر آپ اجازت دیں تو میں تھوڑے سے  میدے کا شیرہ بنادوں تاکہ کچھ افاقہ ہوجائے۔“ماموں جان نے کہا:”نہیں  کیونکہ مجھےخوف ہے کہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے پوچھ لیا کہ یہ  میدہ  کہاں سے آیاتو میں کیا جواب دوں  گا؟“اس کے بعدہم سب رونے لگے۔
کاش میں پیدا نہ ہواہو تا:
	حضرت سیِّدُنا عمر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے منقول ہے کہ ایک دفعہ والدۂ ماجدہ نے میرے  ماموں جان حضرت سیِّدُنابِشرحافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیکوشدید بھوک کی وجہ سے مشکل سے سانس لیتےدیکھاتوکہا:”اے بھائی! کاش میں پید ا نہ ہوتی کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم !تمہاری یہ حالت دیکھ کر میراکلیجہ پھٹنے لگتاہے۔“ماموں جان نے فرمایا:” کاش  میں بھی پیدا نہ ہواہوتا، پیداہوگیا تھاتو میری پرورش نہ کی جاتی۔“
	حضرت سیِّدُنا عُمَر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میری والدہ انہیں دیکھ کر ہمیشہ روتی رہتی تھیں۔