کہ میں نےپوچھا:”اے راہب !لوگ خداکوجاننے کے باوجود اس سےکیوں دور ہیں؟“ اس نے کہا:”اے میرے بھائی!دنیا کی محبت اور اس کی زینت نےلوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدور کر رکھا ہے کیونکہ دنیا گناہوں کی جگہ ہے، سمجھدار وہ ہے جو دنیاکودل سے نکال پھینکے،رب عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے گناہ سے توبہ کرےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاقرب حاصل کرنے والے اعمال بجالائے۔“
(14)…حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے کہا:”آپ بالوں میں کنگھی کیوں نہیں کرتے؟“ فرمایا:”اس کا مطلب یہ ہواکہ میں فارغ ہوں۔“
(15)…حضرت سیِّدُنا اویس قرنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرمایاکرتے تھے کہ یہ رکوع والی رات ہے پھرپوری رات رکوع میں گزاردیتے،اگلی رات فرماتے یہ سجدے والی رات ہےپھر پوری رات سجدے میں گزار دیتے۔
ہمیشہ کا آرام اور تھوڑی مشقت:
(16)…حضرت سیِّدُناعُتْبَۃُالْغُلَامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتوبہ کرنے کے بعد بھوکے پیاسے رہنے لگے۔ والدہ نے فرمایا:”بیٹا! نفس کو کچھ آرام دینے میں کیا حرج ہے؟“عرض کی:”آرام ہی کی تلاش میں ہوں،تھوڑی سی مشقت برداشت کرلینے دیجئے پھر ہمیشہ کے لئے آرام کروں گا۔“
(17)…حضرت سیِّدُنامسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حج کےلئے تشریف لے جاتے تو پوری رات سجدے میں گزاردیتے۔
حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جس طرح لوگ صبح کو رات کے سفر کی تعریف کرتے ہیں اسی طرح موت کے وقت تقوٰی کی تعریف کریں گے۔
حضرت سیِّدُنا عبداﷲبن داؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:سَلَف صالحین میں سے جب کسی کی عمر 40برس ہوجاتی تووہ اپنا بستر لپیٹ لیتااور رات بھر عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتا۔
میرا آدھا عمل کم ہوگیا:
(18)…حضرت سیِّدُنا ابوالحسنکَھْمَسبن حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدن بھرمیں ہزاررکعات نوافل ادا فرماتے اور (جب تھک جاتے تو)نفس کومخاطب کر کے کہتے:”اے تمام برائیوں کی جڑ! اٹھ۔“جب بڑھاپاآگیاتو500