حکایت:راہب کی نصیحت
منقول ہے کہ کچھ لوگ سفر کےارادے سے نکلے مگرراستہ بھول گئے اورایک راہب کےعبادت خانہ تک جاپہنچے۔انہوں نے اسے آوازدی توراہب نےعبادت خانہ سے دیکھا۔لوگوں نے راہب سےکہا:”ہم راستہ بھول چکے ہیں تم ہمیں راستہ بتادو۔“راہب نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔لوگ اس کامقصد سمجھ گئے۔ انہوں نے راہب سےکہا:”کیا تم ہمارے ایک سوال کا جواب دو گے؟“راہب نے کہا:”پوچھو لیکن زیادہ سوال نہ کرنا کیونکہ نہ توگزراوقت لوٹ کر آتا ہے اور نہ ہی عمرلوٹ کر آتی ہے اورموت تیزی سےپیچھا کر رہی ہے۔“قافلے والوں کوراہب کی نصیحت بہت اچھی لگی۔ انہوں نے راہب سےپوچھا:”بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگا ہ میں لوگوں کاحساب وکتاب کس بات پر ہوگا؟“ راہب نے کہا:”نیتوں پر۔“انہوں نے کہا: ہمیں نصیحت کیجئے؟راہب نے کہا:”اپنے سفر کے مطابق زادِراہ حاصل کرو کیونکہ بہترین توشہ وہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچائے۔“ پھرراہب انہیں راستہ بتاکر اپنے عبادت خانہ میں چلاگیا۔
حکایت:دنیاکی محبت
حضرت سیِّدُنا عبدالواحدبن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں ایک چینی راہب کے عبادت خانہ سے گزرا تو اسےاے راہب! کہہ کر آواز دی۔اس نے جواب نہ دیا ۔میں نے دوبارہ آوازدی تب بھی جواب نہ دیا۔ تیسری بار آواز دی تو وہ میری طرف متو جہ ہوا اور کہنے لگا:”اے شخص !میں راہب نہیں ہوں کیونکہ راہب وہ شخص ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کانام سن کر ڈرجائے،اس کی کبریائی کی تعظیم کرے،اس کی طرف سے پہنچنے والی آزمائش پر صبر کرے،اس کی رضاپر راضی رہے،اس کی نعمتوں پرحمد بجالائے،اس کے انعامات پر شکر کرے، اس کی عظمت وشان کےآگے عاجزی وانکساری کرے،اس کی ہیبت وجلال کے سامنے خود کوکمزور خیال کرے،اس کی قدرت کے سامنے جھک جائے،اس کے خوف سے لرزاں وتر ساں رہے، اس کے حساب و عذاب کوپیْشِ نَظَر رکھے، دن کو روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے،دوزخ کی آگ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوالات نے اس کی نیند اڑارکھی ہو۔ایسی صفات والےکوراہب کہتے ہیں۔میں تو ایک کاٹنے والاکتا ہوں اور یہاں قید ہوں کہ کہیں لوگوں کو کاٹ نہ لوں۔“حضرت سیِّدُنا عبدالواحدبن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں