Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
366 - 784
ظاہر پر باطن کا رنگ:
(12)…حضرت سیِّدُنا ابومحمدمُغازِلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:حضرت ابو جُرَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مکہ مکرمہ میں ایک سال اعتکاف فر مایا۔اس دوران نہ آپ  سوئے، نہ کسی سے بات کی،نہ ہی کسی ستون یا دیوار سے ٹیک لگائی اور نہ پاؤ ں پھیلائے۔ایک بارحضرت سیِّدُنا ابوبکرکَتّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے انہیں سلام  کرنے کے بعد کہا:اے ابو محمد !آپ  اس اعتکاف پر کس طرح قادر ہوئے؟فرمایا:اُس علم کی برکت سے جس نے میرے باطن کو سچابنادیا اور میرے ظاہر پر بھی اس کارنگ چڑھ گیا۔یہ سن کر حضرت ابوبکر کتانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سرجھکائے سوچتےہوئے چل پڑے۔
حکایت:خون کے آنسو
(13)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفر ماتے ہیں کہ  میں حضرت سیِّدُنا فتح مُوصِلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے پاس آیا تو وہ ہاتھ پھیلائے  رورہے تھےاوران کے ہاتھوں پر آنسو گر رہے تھے۔میں قریب ہواتودیکھا ان کے آنسو سرخی  مائل تھے۔میں نے قسم دے کر پوچھا:”اے فتح !کیا یہ خون کے آنسو ہیں؟“ جواب دیا:”ہاں یہ خون کے آنسو ہیں اگر تم نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں کچھ نہ بتاتا۔“میں نے پوچھا:”کیوں رورہے ہو؟“ انہوں نے کہا:”اس لئے کہ میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرائض میں کوتاہی کررہاہوں اور یہ خون کے آنسو اس خوف سے نکل رہےہیں کہ  کہیں آنسو ہی قبول نہ ہوں۔“
	وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے  انتقال کے بعد انہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےآپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟“فرمایا:”اس نے مجھے معاف فرمادیا۔“میں نے پوچھا:”آنسوؤں کا کیا ہوا؟“ سیِّدُنا فتح مُوصِلِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اپنا قرب  عطاکرکے فرمایا:”اے فتح !تو کس بات پر رویا کرتا تھا؟“ میں نے عرض کی:”میں تیرے واجب کردہ حقوق کی کوتاہی پر رویا کرتاتھا۔“فرمایا:”خون کے آنسوہی کیوں؟“ میں نے عرض کی:”اس خوف سے کہ کہیں آنسو ہی قبول نہ ہوں۔“ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھ سے فرمایا:”اے فتح !اس رونے سے تیراکیاارادہ  تھا؟ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم !40سال سے تیرے  محافظ فرشتے اس طرح آئے کہ  تیرے نامَۂ اَعمال  میں کوئی گناہ نہیں تھا۔“