Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
365 - 784
بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تمہیں اس قدر مجاہدہ کرنے کا حکم نہیں دیا۔حضرت سیِّدُنا اسود بن یزید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےفرمایا: میں ایک غلام ہوں۔میں ہر وہ عمل بجالانےکی کوشش کرتاہوں جس سے غلامی ظاہرہو۔
(8)…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا معمول تھا روزانہ مجاہدہ کرتے ہوئے ایک ہزار رکعتیں ادا کرتے اگر تھک جاتے توبیٹھ کر ہزار کاعدد پورافر ماتے پھرعصر کی نماز کے بعد مراقبے کی حالت میں بیٹھ کرمخلوق پر تعجب کر تے ہوئے کہتے:کس لئے لوگ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کوچھوڑ کر دوسری چیزوں میں پھنسے ہوئے ہیں؟مخلوق پر تعجب ہے کیوں ان کے دل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر کوبھول کر کسی اور چیزسے مانوس ہوگئے ہیں؟
نمازسے محبت :
(9)…حضرت سیِّدُنا ثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کونماز سے بہت محبت تھی۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یوں دعا مانگا کرتے:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اگر تونے کسی کو قبر میں نماز پڑھنےکی اجازت دی ہے تو مجھے بھی اجازت عطا فرمادے تاکہ میں قبر میں بھی نماز پڑھ سکوں۔(1)
(10)…حضرت سیِّدُنا  جنید  بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیفرماتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناسَری سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے زیادہ عبادت گزارکوئی  نہیں دیکھا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اٹھانوے سال کی عمر میں صرف مرضُ الموت ہی میں بستر پر  دیکھے گئے ورنہ  عبادت میں مصروف رہے ۔
(11)…حضرت سیِّدُنا حارث بن سعد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد فرماتے ہیں:چندلوگ کسی راہب کے پاس سے گزرے تو اسے خوب مجاہدہ کرتے دیکھ کر اس کی وجہ پوچھی ؟راہب نے کہا:لوگ روزِقیامت  کی سختیوں سے غافل ہیں،یہ مجاہدہ ان سختیوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔لوگ نفسانی خواہشات  میں مصروف ہوکر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ملنے والے  بڑے اجرکو بھول گئے ہیں۔وجہ پوچھنے والےیہ سن  کررو نے لگے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔ چنانچہ’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَآء‘‘میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا شیبان بن جسر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدفرماتے ہیں کہاللہعَزَّ  وَجَلَّکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکو میں نے اور حضرت حمیدالطویلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْلیاکسی اورشخص نے لحدمیں اتارا،جب ہم اینٹیں درست کر چکے تواتفاقاًایک اینٹ گرگئی،اچانک میں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔(حلیة الاولیاء، ۲/ ۳۶۲،الرقم:۱۹۷،ثابت بنانی)