فضول دیکھنے سے اجتناب:
(4)…حضرت سیِّدُنا محمد بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں کہ ہم فجر سے عصر تک حضرت سیِّدُنا احمد بن رَزِیْنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں بیٹھے رہےلیکن انہوں نے کسی جانب مڑکر دیکھاتک نہیں۔ اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آنکھیں اس لئےتخلیق فرمائی ہیں تاکہ بندہ باری تعالیٰ کی عظمت کو دیکھے،اب اگرکوئی شخص عبرت کے علاوہ کسی غرض کے لئے انہیں استعمال کرتاہے تواس کے حق میں خطا لکھ دی جاتی ہے۔“
پنڈلیاں سوج گئیں:
(5)…حضرت سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اہلیہ فرماتی ہیں:حضرت سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی پنڈلیاں نمازمیں لمبے قیام کرنےکی وجہ سے سوج گئی تھیں۔بخدا!میں جب ان کے پیچھے بیٹھتی تو ان کی یہ حالت دیکھ کر رو پڑتی۔
زندگی تین چیزوں کی وجہ سے پسندہے:
(6)…حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:تین چیزیں اگر نہ ہوتیں تو میں ایک دن بھی زندہ رہنا پسند نہ کرتا:(۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئے روزہ رکھنا (۲)…رات کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا اور (۳)…عمدہ پھلوں کی طرح عمدہ باتوں کاانتخاب کرنے والےلوگوں کی صحبت اختیارکرنا۔
سیِّدُنااسود بن یزیدرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا مجاہدہ:
(7)…حضرت سیِّدُنا اسود بن یزیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز خوب مجاہدہ فر ماتے،گرمی میں روزہ رکھتے حتّٰی کہ آپ کا جسم(خون کی کمی کے سبب) سبزاورزرد ہوجاتا۔ حضرت سیِّدُنا علقمہ بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان سےکہتے: آپ نفس کو اس طرح سزاکیوں دیتے ہیں؟ارشادفرماتے:میں اس کی عزت و بھلائی کے لئے ایساکرتاہوں۔
چونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسلسل روزے رکھتے حتّٰی کہ جسم زرد ہوجاتا تھا، دوران نمازاتنالمباقیام کرتے کہ(تھک کر)گرجاتےلہٰذا ایک بار حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا حسن