مُجاہَداتِ بُزُرگانِ دِین کی 38حکایات وواقعات
حکایت:عبادت کی مٹھاس
(1)…منقول ہے کہ کچھ لوگ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی عیادت کے لئے حاضِرِ خدمت ہوئےجن کے ساتھ ایک دبلا پتلا نوجوان بھی تھا۔حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےاس سے پوچھا:”اے نوجوان !میں تمہیں اتناکمزور کیوں دیکھ رہا ہوں؟“ اس نے عرض کی: ”امیر المؤمنین !چند بیماریوں کی وجہ سے۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”تمہیں خداتعالیٰ کا واسطہ سب کچھ سچ سچ بتاؤ۔“اس نے کہا:”امیر المؤمنین!میں نے دنیا وی عیش وعشرت دیکھی تو اسے بد مزہ پایا، میری نظر میں اس کی رونق اور حَلاوَت حقیر ہوگئی،اس کا سونا اور پتھر برابرہوگئے،اب میری حالت ایسی ہے کہ میں عرشِ باری تعالیٰ کو دیکھ رہا ہوں،لوگوں کوجنت اور جہنم کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہاہوں ، بس اسی وجہ سے میں دن میں روزے رکھتاہوں اور رات کوقیام کرتا ہوں پھربھی میرایہ عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے دیئے جانے والے ثواب و عذاب کے لئے بہت کم ہے۔“
وقت کی اہمیت:
(2)…حضرت سیِّدُنا امام ابُونُعَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ روٹی کھاتے نہیں بلکہ پانی میں گھول کرپی لیتے۔جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فر مایا:روٹی کھانے میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہےجبکہ گھول کر پینے میں کم وقت صرف ہوتاہے اور 50آیات پڑھی جاسکتی ہیں۔
20سال تک چھت کی جانب نہ دیکھا:
(3)…حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی چھت کی ایک کڑی ٹوٹ گئی ہے۔ فرمایا:بیٹا!میں نے 20سال سےاپنے گھر کی چھت کی جانب نہیں دیکھا۔
ان حضرات کوجس طرح فضول بات ناپسندتھی اسی طرح فضول دیکھنے کو بھی ناپسندفرماتے۔