بارگاہِ رسالت سے خوشخبری:
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں:طُوْبٰى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهٗ وَحَسُنَ عَمَلُهٗ یعنی خوشخبری ہے اس شخص کےلئے جس کی عمر لمبی اور اعمال اچھے ہوں۔(1)
مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرشتوں سے فرماتا ہے:”میرے بندوں کو کیاہواکہ وہ اس قدر مجاہدے میں مصروف ہوگئے؟“فرشتے عرض کرتے ہیں:”اے ہمارے معبود! تونے انہیں ایک چیز سے ڈرایا ہےتووہ اس سے ڈرنے لگے، تونے انہیں ایک چیزکی رغبت دلائی ہےتووہ اس میں رغبت کرنے لگے۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”اگر میرے بندے مجھے دیکھ لیں تو کیاہوگا؟“فرشتے عرض کرتے ہیں:”تب تو وہ مجاہدے میں اور زیادہ مصروف ہوجائیں گے۔“
اسلاف کا کردار:
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں:میں نےکئی صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی صحبت اختیار کی لیکن انہیں نہ تو دنیا وی چیز کےملنے پر خوش ہوتےدیکھااور نہ ہی دنیاوی چیزکے چلے جانے پر افسوس کرتے دیکھاکیونکہ اِن کے نزدیک دنیا پاؤں تلے روندے جانے والی مٹی سے بھی زیادہ حقیرتھی۔بعض پوری زندگی ایک ہی کپڑے میں گزاردیتے،بعضوں کوجومیسرہوتاکھالیتے اوربعض ہمیشہ زمین پر سوتے۔میں نے انہیں قرآنِ کریم اور سنَّتِ رسول پر عمل پیرا،رات کے وقت نوافل ادافر ماتے،سجدوں کی کثرت کرتے، خوب گریہ وزاری کرتےاور اُخروی نجات کے لئے بارگاہِ الٰہی میں روتے اور گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ یہ لوگ جب نیکی کرتے ہیں تو اس پر خوش ہوتےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی قبولیت کی دُعاکرتے ہیں اور اگر کبھی کوئی خطاسرزد ہوجائےتو غمزدہ ہوجاتےہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !یہ لوگ ہمیشہ اسی طرح زندگی بسرکرتے رہے اور اِنہوں نےرب تعالیٰ کی رحمت اور بخشش ہی کے ذریعے گناہوں سے سلامتی اور نجات پائی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب استعانة باللّٰہ، ص۴۷۲، حدیث:۱۳۴۰
سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی طول العمر للمؤمن، ۴/ ۱۴۷، حدیث:۲۳۳۶