سننے اور پڑھنے کی طرف توجہ دی جائے اورغور کیاجائےکہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن عبادت میں کس قدر کوشش کیا کرتے تھے، ان کے مجاہدے میں غوروفکرکرنے سے بڑھ کر کوئی چیز نفع مند نہیں۔نیزغور کیا جائے کہ ان عظیم ہستیوں کی عبادت وریاضت اور محنت ومشقت تو باقی نہیں رہی لیکن یہ حضرات ہمیشہ رہنے والی نعمتوں اور ثواب کے حق دار ضرور ہیں توان کی ملکیت کتنی بڑی ہے۔اس شخص پر تعجب ہے جودنیا کے تھوڑے اَیّام میں بے لطف خواہشات کے سبب اپنے آپ کو ان کی اقتدا سے روکتا ہے۔جب اس کے پاس موت آتی ہے تو وہ اس کے اور اس کی خواہشات کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حائل ہوجاتی ہے۔ہم ایسی ہلاکت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
اب ہم مجاہدہ کرنے والوں کی فضیلت اوراوصاف بیان کریں گے تاکہ طریقت کی راہ پر چلنے والے کو عمل کرنے کی ترغیب ملے اور وہ عمل کرنے لگے۔
مجاہدہ کی فضلیت:
رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان لوگوں پر رَحم فرمائے جنہیں لوگ بیمار خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے۔(1)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: اس فرمان کامطلب یہ ہے کہ انہیں عبادت میں مجاہدے نے لاغر وکمزور کردیا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ (پ۱۸،المؤمنون:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور اُن کے دل ڈر رہے ہیں۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر بیان فرماتے ہیں:یہ ایسے لوگ ہیں جو نیک اعمال بھی کرتے ہیں اور خوف بھی رکھتےہیں کہ یہ اعمال انہیں عذابِ خُداوندی سے نجات دلاسکیں گے یا نہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب ما جاء فی فضل العبادة، ص۳۰، حدیث:۹۲