بزرگانِ دین کانفس کومختلف سزائیں دینا:
٭…ایک بار امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نمازِ عصر رہ گئی،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نفس کو سزادینے کے لئےاپنی دولاکھ درہم مالیت کی زمین صدقہ کردی۔
٭…حضرت سیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی اگر کبھی جماعت رہ جاتی تو آپ پوری رات عبادت میں گزارتے۔
٭…ایک با رآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکونمازِ مغرب میں تاخیر ہوگئی حتّٰی کہ دوستار ے نکل آئے تو آپ نے دو غلام آزاد فرمائے۔
٭…ایک بار حضرت سیِّدُناابنِ ابی ربیعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے فجر کی سنتیں رہ گئیں تو انہوں نے ایک غلام آزاد کیا۔
بعض بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نفس پر ایک سال روزےرکھنا،پیدل حج کرنایا اپنا تمام مال صدقہ کرنا لازم کردیتے۔یہ تمام سزائیں نفس کی نگرانی اور حصولِ نجات کے لئے ہوتی تھیں۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
نفس تو مجاہدے اور وظائف پر ہمیشگی کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا پھر اس کا علاج کیسے کیاجائے؟جواب: نفس کومجاہدہ کرنےوالوں کے فضائل میں وارد احادیْثِ مُبارَکہ سنائی جائیں۔نفس کاسب سے بہترین علاج یہ ہے کہ عبادت میں خوب مجاہدہ کرنے والے بندۂ خداکی صحبت اختیار کی جائے اور اس کی باتیں توجہ سے سن کر ان پر عمل کیاجا ئے۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’جب مجھے عبادت میں کچھ سستی محسوس ہوتی ہے تو میں حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ النَّافِع کی عبادات ومعمولات کودیکھتاہوں پھر ایک ہفتہ تک میری عبادت کی سستی دور ہوجاتی ہے ۔‘‘
آج کے دور میں عبادت میں سستی دور کرنے کا یہ طریقہ مشکل ہے کیونکہ اب ایسے لوگوں کاملنا بہت مشکل ہے جو اسلاف کی طرح عبادت میں کوشش کرتے ہوں لہٰذاتلاش کےبجائے ان کے حالات وواقعات