Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
36 - 784
(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ، فرشتوں،آسمانی کتابوں، رُسُلِ عِظام و انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی شریعتوں کا علم ہونا۔
(2)…اپنی اور بندگانِ خدا کی اصلاح کرنے پر ہدایت اور حکمت کے ساتھ قادر ہونا۔
(3)…گھٹیاصفتوں،باطنی نجاستوں اور غلبہ کرنے والی شہوتوں سے پاک ہونا جو بھلائی کے راستے سے ہٹاتی اور شَرْ کی طرف لے جاتی ہیں۔
تینوں اسباب کے لحاظ سے محبَّتِ باری تعالٰی:
	بیان کردہ اسباب ہی وہ صفات ہیں جن کی وجہ سے حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام، علمائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام، خُلفا اور صاحبِ عدل و کرم بادشاہوں سے محبت کی جاتی ہے لہٰذا ان تینوں صفات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات کی طرف نسبت کرتے ہوئے دیکھئے:
صفتِ علم کے لحاظ سے:
	جہاں تک علم کا تعلق ہے تو اَوّلین و آخرین کے علم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم کے ساتھ کیا نسبت ہے کہ جس کا علم تمام اشیاءکا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہے کہ اس کی انتہاء نہیں حتّٰی کہ زمین و آسمان کا کوئی ذرہ اس سے غائب نہیں اور اس نے تمام مخلوق کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا:
وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵)		ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔
	بلکہ اگر تمام آسمان و زمین والے جمع ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم اور حکمت کا احاطہ کرنا چاہیں جوایک مکھی یا مچھر کی تخلیق کی تفصیل کے متعلق ہے تو وہ اس کے دسویں حصے پر بھی مُطَّلَع نہ ہو سکیں گے۔ارشادِ باری تعالٰی ہے:
وَلَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنْ عِلْمِہٖۤ اِلَّا بِمَاشَآءَۚ (پ۳،البقرة:۲۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے۔
	اور جو تھوڑی مقدار علم کی تمام مخلوق کو حاصل ہے وہ بھی اسی کے عطا فرمانے سے ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے: خَلَقَ الْاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ﴿۴﴾ (1)یعنی انسان پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان:انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ما کان و مایکون کا بیان انہیں سکھایا۔(پ۲۷،الرحمن:۳ تا۴)