فرمانا: اے حُنَیف!آج تو نے فلاں عمل کس لئے کیا ؟ آج تجھے فلاں عمل پر کس چیزنے ابھارا؟
٭…حضرت سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو نفس کی کوئی بات بُری معلوم ہونے پر آپ کا اپنے سینے کے کچھ بال اکھیڑ دینا اور تکلیف بڑھ جانے پر کہنا:اے نفس! میں تو تیری بھلائی چاہتا ہوں۔
٭…حضرت سیِّدُنا محمد بن بشر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوافطار کے وقت نمک کے بغیر روٹی کھا تے دیکھ کر کہنا: ”اگر نمک کے ساتھ کھاتے تو کیا حرج تھا؟“ اس کے جواب میں حضرت سیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمانا:”میرا نفس ایک سال سے نمک کا مطالبہ کر رہاہے۔“ پھر ساری زندگی نمک نہ چکھنا۔
الغرض محتاط لوگ اسی طرح نفس کوسزا دیتے تھے۔تعجب ہے کہ تم اپنی باندی، غلام اور بیوی بچوں سے بداخلاقی یا کوتاہی سرزد ہو نے پر تو ان کو سزا دیتے ہو کیونکہ تمہیں خوف ہوتاہے کہ اگر ان سے درگزر کیا گیاتو یہ لوگ ہاتھ سے نکل جائیں گےاورسرکشی پر اُتر آئیں گےلیکن اپنے سب سے بڑے دشمن نفس کو چھوڑ دیتے ہو۔
یادرکھو!نفس کی سرکشی کا نقصان تمہارے اہل وعیال کی سرکشی کے نقصان سے زیادہ ہے کیونکہ اہل وعیال تو زندگی ہی میں تمہیں پریشان کریں گے۔اگر تم سمجھدار ہوئے توجان جاؤ گے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہےجس میں ناختم ہونے والی دائمی نعمتیں ہیں جبکہ تمہارانفس آخرت کی زندگی کوتباہ کرنے والا ہے لہٰذا یہ سزا کا زیادہ مستحق ہے۔
باب نمبر 5: مجاہدہ
مجاہدہ کی تعریف:
محاسَبۂ نفس سے جب معلوم ہوجائے کہ اس نے گناہ کاارتکاب کیا ہے تونفس کوماقبل بیان کی گئی سزاؤں میں سےکوئی سزا دینا’’مجاہدہ "کہلاتاہے۔
اگر نفس کسی فضیلت والے کام میں سستی کرےیاکسی وظیفہ میں کوتاہی کرے تو اسے مختلف اقسام کے اَوراد ووظائف کاپابند بنا کرسزادی جائےتاکہ کوتا ہیوں کی تلافی اورنقصان کاتدارک ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے عمل کرنے والے ایسا ہی عمل کرتے ہیں۔