Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
358 - 784
 بھلائی ہوتی توتیری حاجت ضرورپوری ہوتی۔“اسی  وقت ایک فرشتے نے پکارا:”اے ابنِ آدم!تیری یہ ساعت تیری گزشتہ عبادات سے بہتر ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے تیری حاجت  پوری فر مادی۔“
حکایت:عزمِ مصمم
	حضرت سیِّدُنا ابوموسٰی عبداللہ بن قیس اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ہم جہاد میں شریک تھے، دشمن كےآنے کا شوراٹھاتومجاہدین سخت ہواکےباوجودمیدانِ جنگ کی طرف چل پڑے۔اسی دوران میں نے اپنے آگے ایک شخص کو دیکھا، وہ کہہ رہا تھا:اے  نفس!میں فلاں جہاد میں شریک  ہوامگر تو نے بیوی بچوں کا خیال دلایاتومیں تیری بات مان کر جہاد سے دور ہوگیا،اسی طرح پھر میں ایک جہاد میں شریک ہوا مگر تو نے بیوی بچوں کاخیال دلایاتومیں تیری بات مان کردوبارہ  جہاد سے دور ہوگیامگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!آج میں تجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کردوں گا وہ تجھے قبول کرے یانہ کرے۔ حضرت سیِّدُناابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا: میں اس شخص  پرمسلسل نظرركھوں گا۔ چنانچہ  میں نے اس پر نظر رکھی۔ جنگ شروع ہوئی تو وہ سب سے آگے تھا، دشمن کےحملوں سےمجاہدین بکھر گئےلیکن وہ شخص اپنی جگہ ڈٹا رہا، دیگر مجاہدین کئی مرتبہ  مُنْتَشِر  ہوئےلیکن وہ شخص  ثابت قدمی سے لڑتا رہا۔بخدا!وہ یوں ہی لڑتا رہا حتّٰی کہ شہید ہوگیا۔میں نے اس پر اور اس کی سواری پر ساٹھ یا اس سے زائد زخم شمار کئے۔
	گزشتہ صفحات میں ہم نے نفس کو سزائیں دینے سےمتعلق جو روایات بیان  کیں مثلاً:
٭…ایک بار کسی پرندے نے حضرت سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی توجہ نماز سے ہٹاکرباغ کی جانب مبذول کروائی  توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بطورِکفا رہ اپنا باغ راہ ِ خدا میں صدقہ کردینا۔
٭…حضرت سیِّدُنا عمر فاروق  اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا رات  کے  وقت اپنے پاؤں پردرّہ مارنا اور  نفس سے پوچھنا: آج تو نے کیا عمل کیا؟
٭…حضرت سیِّدُنا مجمع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے چھت کی جانب سر  اٹھایاتوکسی عورت پر نگاہ  پڑ گئی تو آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نفس کوسزادینے کافیصلہ فرمانا اورقسم کھانا کہ  ساری  زندگی آسمان کی طرف نہیں  دیکھوں گا۔
٭…حضرت سیِّدُنااحنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہررات چراغ پرانگلی رکھنا پھر خود سے  مخاطب ہو کر