Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
357 - 784
شخص نےکہا:”اے فلاں! میرے لئے دعا کرو۔“رَسولِ اَکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ان سب کے لئے دعا کرو۔“چنانچہ اُس نےیوں دعا مانگی:”اَللّٰھُمَّ اجْعَلِ التَّقْوٰی زَادَھُمْ وَاجْمَعْ عَلَی الْھُدٰی اَمْرَھُمْ یعنی  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ان سب کا زاد ِ راہ  تقوٰٰی بنادے اوران سب کے معاملے کو ہدایت پر جمع فرما۔“ پھر رحمَتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص کے لئے دعافرمائی:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!اس کو راہِ راست پرثابت  رکھ۔“ اس شخص نے کہا:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہماراٹھکانا جنت بنادے۔“(1)
سب سے بڑادشمن:
	حضرت سیِّدُنا حذیفہ بن قتادہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ایک شخص سے پوچھا گیا:”تم نفس کی خواہشات کس طرح پوری کرتے ہو؟“اس نے کہا:”روئے زمین پرمیراسب سے بڑادشمن نفس ہے،میں اس کی خواہشات کیسے پوری  کرسکتا ہوں؟“
قید سے پہلے قید:
	حضرت سیِّدُنا اِبْنِ سَمّاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیِّدُنا داؤدطائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے وصال کےموقع پر ان کے گھر تشریف لے گئے۔ان  کی مبارک نعش (لاش)  زمین پر دیکھ کر کہنے لگے:اے داؤد!تم نے نفس کو قید ہونے سے پہلے ہی  قید کردیا تھا،اسےسزا ہونے سے پہلے ہی سزادے دی تھی۔آج تم اس ثواب کو بھی  دیکھ لو گے جس کےلئے ایساعمل  کرتے تھے۔
حکایت:حاجت پوری ہوگئی
	حضرت سیِّدُنا وہب بن مُنَبِّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ایک شخص کافی عرصہ سےعبادت میں مصروف تھا کہ اچانک اُسےایک حاجت پیش آئی۔اس نےحاجت  پوری ہونے کے لئے 70ہفتےاس طرح عباد ت کی کہ ہرہفتے صرف  گیارہ کھجوریں کھاتا،اس کےبعداس نےبارگا ہِ الٰہی میں حاجت کاسوال کیا  مگر حاجت پوری نہ ہوئی۔اس نے نفس کومتوجہ کر  کے کہا:”یہ تیری  ہی وجہ سے ہواکیونکہ  اگر تجھ میں کوئی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…جامع الاحادیث للسیوطی، مسند طلحة بن عبیداللّٰہ، ۱۷/ ۹، حدیث:۸۹۱۷