Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
356 - 784
 یہ  سونے کا وقت ہے؟یہ کہہ کر آپ واپس  چلے گئے۔ہم نے ان کے پیچھےایک قاصد  بھیجا تاکہ وہ پوچھے کہ کیاوالد صاحب  کو جگادیں؟وہ واپس آکر  کہنے لگا:وہ تو میری بات سمجھنے سے زیادہ اہم کام میں مشغول ہیں۔ میں نے انہیں قبرستان میں دیکھا کہ وہ اپنے نفس کو ڈانتے ہوئے کہہ رہے ہیں: تونے یہ  کیوں کہا کہ  یہ سونے کا وقت ہے؟ کیا یہ کہنا تجھ پر لازم  تھا؟جوجب چاہے سوئے تو پوچھنے والا کون ہو تا ہے اور تجھے کیا معلوم کہ یہ سونے کا وقت نہیں؟جس کا علم نہیں اس کے بارے میں تونے کیوں گفتگوکی؟میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے  نہ توڑنے والا وعدہ کرتا ہوں کہ ایک سال تک  زمین پر ٹیک لگاکرنہیں سوؤں  گاالبتہ کوئی مرض حائل ہوجائے یا عقل زائل ہوجائے تو الگ بات ہے۔اے نفس!تجھے شرم نہیں آتی کب تک تجھے عاردلاؤں؟کب تو گمراہی سے باز آئے گا؟قاصدنے مزیدکہا:پھر آپ  رونے لگے،انہیں میری موجودگی کا علم نہ  تھا۔میں یہ دیکھ کرواپس چلا آیا۔
حکایت: سال بھر بالکل نہ سوئے
	حضرت سیِّدُنا تمیم داری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی کے بارے میں  منقول ہے کہ آپ ایک رات سوئے تو تہجد کے لئے اٹھ نہ  سکے۔اس پرآپ نے نفس کو یہ سزادی کہ ایک سال تک رات کوبالکل نہ سوئے بلکہ مسلسل  نماز پڑھتے رہتے۔
حکایت:نفس کو سزا دینے پر انعام
	حضرت سیِّدُنا طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن  ایک شخص زائدکپڑے اتار کر باہر  نکلا اور گرم ریت پر خوب لوٹ کرخودکومخاطب کرکے کہنےلگا: اے رات کے مردار اور دن کے بیکار!یہ ذائقہ   چکھ  کیونکہ  جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔اس دوران اچانک اس کی نگاہ حضورِ اکرم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب  گئی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک درخت کے سائے میں تشریف فرماہیں۔ وہ خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض گزارہوا:”میرا نفس مجھ پرغالب ہوگیا ہے۔“رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم نے جوکیا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا،سنو!تمہارے لئے آسمانی دروازے کھول دئیے  گئے  ہیں، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرشتوں کے سامنے تم پر فخرفرمارہاہے۔“پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ارشاد فرمایا:”اپنے بھائی سے  توشَۂ آخرت لو۔“ایک