Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
355 - 784
 کرنے  میں جلدی کے بجائے سستی اور تاخیر کیسے کرسکتا ہوں؟لہٰذا  میں نے نفس کوانوکھی سزا دینے کے لئےقسم کھائی کہ میں اسی لباس میں غسل کروں گا نیزاسے اُتار کرنچوڑوں گابھی  نہیں  بلکہ بدن  ہی پر خشک کروں گا۔
حکایت:آنکھ پھٹ گئی
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناغزوان(1) اور حضرت سیِّدُنا ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں جہاد میں تھے۔ اچانک  ایک عورت  پر حضرت سیِّدُنا  غزوان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی نظر پڑی تو ندامت کی وجہ سے آپ نے اپنی آنکھ پر اتنی  زور سے طمانچہ مارا کہ آنکھ پھٹ گئی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آنکھ سے کہا:تو ایسی چیز دیکھ رہی تھی  جو تیرے لئے نقصان دہ ہے۔
ساری زندگی ٹھنڈا پانی نوش نہ فرمایا:
	منقول ہے کہ ایک بزرگ کی نگاہ کسی عورت کی طرف  اٹھ گئی تو انہوں نے نفس کوسزادینے کافیصلہ کیااورساری  زندگی  ٹھنڈا پانی نوش نہ فرمایابلکہ گرم پانی پیتے رہے تاکہ نفس دنیا کی نعمت کے لئے تڑپتا رہے۔
نفس کو ایک سال کےروزے کی  سزا:
	حضرت سیِّدُناحَسّان بن ابوسِنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کے بارے میں منقول ہے کہ آپ کسی مكان کے پاس سے گزرے تو پوچھا:یہ کب بنا ہے؟پھر نفس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا :ایسا بے مقصد سوال تو نے کیوں پوچھا؟ اب  میں ایک سال روزےرکھ کر تجھے سزا دوں گا۔ چنانچہ آپ نے  ایک سال  تک روزے رکھے۔
حکایت:ایک سال تک ٹیک لگاکر  نہ سوئے
	حضرت سیِّدُنا مالک بن ضَیْغَم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناریاح بن عَمْروقَیْسِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیعصر کے بعد آئے اور میرے والد کے بارے میں پوچھا؟ ہم نے کہا: وہ توسو رہے ہیں۔آپ نے کہا:اس وقت سو رہے ہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…علامہ سیِّد محمد مرتضٰی زَبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:مجھے کسی ایسے صحابی کا علم نہیں  جس کا نام غزوان ہو۔ میرے خیال میں یہ عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں جیساکہ یہ واقعہ ’’حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء‘‘میں حضرت سیِّدُناعتبہ بن غزوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق منقول ہے۔(اتحاف السادة المتقین، ۱۳/ ۲۱۹ ملخصًا)