Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
353 - 784
 دینے کےذریعے۔البتہ ان میں سے کوئی بھی صورت اس وقت ہی ممکن ہے جب غوروفکر سے محاسبہ ہواور بقیہ حق جو اس کے ذمہ لازم ہے متعین ہو،لہٰذا اگر ایسا ہوتونفس سے مطالبہ اوروصولی  کرے۔
	ہردن  ہر گھڑی بلکہ پوری زندگی تمام ظاہری اور باطنی اعضاء کامحاسبہ  ہونا چا ہئے۔
حکایت :خوف خدا سے انتقال
	حضرت سیِّدُنا توبہ بن صِمّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کامعمول تھا کہ آپ اپنا محاسَبہ کیا کرتے تھے ۔ایک دن آپ نے اپنی  عمر کاحساب لگایا تو  آپ  کی  عمر ساٹھ سال بنی،دنوں کا حساب لگایاتو21ہزار500بنے۔یہ دیکھ کر آپ نے اچانک چیخ ماری اور فرمایا: ہائے افسوس!(اگر روزانہ ایک گناہ  بھی ہواتو )میںاللہعَزَّ  وَجَلَّ سے21 ہزار500 گناہوں کے ساتھ ملاقات کروں گااور اگر  روزانہ 10ہزار گناہ ہوئے تو پھر کیا بنے گا؟یہ سوچ کر غش کھا کر گر ے اور خوف ِ خدا سے وفات پاگئے۔لوگوں نے  کسی کہنے والےکوان کے متعلق کہتے  ہوئے سنا:’’  اے شخص!فردوس ِاعلیٰ کی طرف جاؤ۔‘‘
	لہٰذا آدمی کو چاہئے کہ وہ یوں اپنی سانسوں،دل  میں پید اہو نے والے گناہوں  کےخیالوں اور اعضاء سے سرزد ہونے والی نافرمانیوں کا بھی  احتساب  کرے۔اگر آدمی ہر گناہ کے بعد  اپنے گھر میں ایک پتھر پھینکے تو کچھ  ہی دنوں  بعد اس کا گھر پتھروں سے بھر جائےگالیکن آدمی گناہوں بھرےاعمال یاد رکھنے میں سستی کرتا ہے حالانکہ بحکم الٰہی دو فرشتے اسے یاد رکھتے ہیں جیساکہ  ارشادبا ری تعالیٰ ہے:
اَحْصٰىہُ اللہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ (پ۲۸،المجادلة:۶)	ترجمۂ کنز الایمان: اللہ نے انھیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے۔
باب نمبر4:			کو تاہی  پر نفس کو سزا دینا
	اگرنفس محاسَبہ کےباوجود حقوقُ اللہ میں کوتاہی اور گناہ کرنےسےباز نہ آئےتواسےکھلی چھٹی نہیں دینی چا ہئے کیونکہ اس طرح اس کے لئے گناہ کرنا آسان ہوجاتا  ہےاور نفس کو گناہوں کی لت پڑجاتی ہے پھر   گناہوں سے بچنا مشکل ہوجاتاہے اور یہ چیزہلاکت کاسبب بن جاتی ہے۔لہٰذانفس کو خبردار کرتے رہناچاہئے مثلاً آدمی جب نفسانی خواہش کے  سبب کوئی مشتبہ لقمہ کھالےتو نفس کو بھوکا رکھ کر سزا دے  اور اگر کسی غیرمَحرَم کودیکھ لے  تو آنکھ کویہ سزا دے کہ کسی چیزکی طرف نہ دیکھے۔ اسی طرح جسم کے ہر عضو کوکوتاہی