Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
352 - 784
ہے تو اس سےتاوان  لے  اورمستقبل  میں ازالے کا کہے۔ اسی طرح دین کےمعاملے میں  سرمایہ فرائض اور نفع نوافل ومستحبات ہیں جبکہ نقصان گناہ ہے۔
احتسابِ نفس:
	اُخروی تجارت کا موسم دن بھر ہوتا ہے۔اس میں شریک تجارت نَفْسِ اَمّارہ ہوتا ہے لہٰذا سب سے پہلے اس  سے فرائض کے بارے میں پوچھ گچھ کرے۔اگر اس نےتمام آدا ب و شرائط کے ساتھ فرائض کی ادائیگی  کردی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر بجا لائےاورنفس کو اس طرح کی ادائیگی  پر مزید ابھارے۔ اگرنفس نے  سرے سے فرائض ادا نہیں کئے تو اس سے قضا کا مطالبہ کرےاوراگر ناقص طور پر ادائیگی کی تو  نوافل کے ذریعے کمی کو پورا کرائےاوراگرنفس کسی گناہ کاارتکاب کربیٹھےتواسےسزادے تاکہ کوتاہی کی تلافی  اچھی طرح  ہوجیساکہ تاجر اپنے شریْکِ تجارت کےساتھ کرتا ہے،لہٰذاجس طرح دنیاوی تاجرشریک تجارت سے ایک ایک پیسے  کی کمی زیادتی کا حساب و کتاب کرکے مال کی حفاظت کرتا ہے حتّٰی کہ دھوکا دہی کا شکار ہونے  سے بچ جاتا ہے اسی طرح  بندہ  بھی نفس کی جانب سے معمولی نقصان اور مکروفریب سے بچتارہے کیونکہ  نفس  بڑا دھوکے باز اور مَکّار ہے۔
نفس کا احتساب کیسے کیا جائے؟
	سب پہلے  نفس سے  دن بھر کی تمام حرکات و سکنات    کی تفصیل طلب کرےاور اس کے لئے  وہ طریقہ  اختیار کرے جوبروزِ قیامت حساب وکتا ب کے وقت بندوں کے سا تھ اختیار کیاجا ئے گا۔چنانچہ نظر سے حساب شروع کرےحتّٰی کہ تمام افکار وخیالات،اٹھنےبیٹھنے، کھانے پینے، سونے یہاں تک  کہ  چپ رہنے کا بھی احتساب  کرے  کہ چپ کس نیت سے رہا؟اگرکوئی بھی عمل  نہ کیاتو پوچھے کیوں نہ  کیا؟ جب نفس پر واجب تمام باتوں کی پوچھ گچھ ہوجائےاوریہ معلوم ہوجائےکہ فلاں فلاں واجبات  کی ادائیگی ہوگئی توان کا احتساب بھی ہوگیااور جن کی ادائیگی نہیں ہوئی  انہیں دل کےرجسٹر میں لکھ کر محفوظ کرلےجیسے  تاجر اپنے شریک تجارت کے ذمہ باقی حساب وکتاب کو رجسٹر میں  لکھ لیتا ہے۔پھر اگر نفس کے ذمہ کوئی حق لازم ہو اور اسے پورا وصول کرنا ممکن ہو تو وصول کرلے،کچھ جرمانے(یعنی نفلی عبادت)کی صورت میں،کچھ جوں کا توں واپس کرنے کے ساتھ اورکچھ سزا