Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
351 - 784
 اپنا محاسبہ کرلیا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص  پررحم فرمائے جواپنے عمل کو لگام دے کر رکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس عمل سے وہ کیاچاہتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے  میزان عمل  پر  نظر رکھتاہے۔حجاج اس  طرح کی باتیں کرتا رہا حتّٰی  کہ میں روپڑا۔
سیِّدُنااَحنف بن قیس رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکا مُحاسَبۂ نفس:
(17)…حضرت سیِّدُنااَحنف بن قیسرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ایک  شاگرد بیان کرتے ہیں کہ میں ان کی مجلس میں صبح تک  رہتا تھا وہ رات کے  اکثر حصہ میں نماز  پڑھتے اور دعا مانگتے تھے اور چراغ کے پاس جاکر اس پرانگلی رکھتے حتّٰی کہ آگ کی تپش محسوس ہوتی پھر خود سے  مخاطب ہو کر فرماتے:’’اے حُنَیف!آج تو نے  فلاں  عمل  کس لئے کیا ؟ آج تجھے فلاں عمل پر کس  چیزنے ابھارا؟
دوسری فصل:		عمل کے بعد مُحاسَبہ کی حقیقت
	یادرکھئے!جس طرح بندہ دن کےآغاز میں نفس کو حق بات کی نصیحت  کرنے کے لئے ایک مخصوص وقت مُقرَّر کرتا ہے اسی طرح دن کے اختتام  پر بھی تمام حرکات وسکنات کےمُحاسَبہ ومطالبہ کے لئےایک مخصوص وقت مُقرَّر کرے۔جیسے تاجر برادری دنیاوی حرص کے لئےاپنے کاروباری شراکت داروں کے ساتھ سال،مہینے یا دن کے آخر میں ایک وقت حساب وکتاب کے لئے مقرر کرتے ہیں نیز انہیں یہ خوف بھی لگا رہتا ہے کہ کہیں سرمایہ  ضائع  نہ  ہوجائے حالانکہ اس کا ضائع  ہوجانا ان کے حق میں  بہتر ہےاگر انہیں  سرمایہ حاصل ہو بھی جائے تو چند ہی دن باقی رہتا ہے۔جب یہ بات ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عقل مند شخص ان اُمور میں اپنا محاسبہ نہ کرے جودائمی بدبختی اور نیک بختی سے تعلق رکھتے ہیں۔کسی کا محاسَبہ کے معاملے میں سستی کرنا غفلت و رسوائی کے مُتَرادِف ہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی توفیق نہ  ملنے  کی علامت  ہے۔ ہم اس سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں۔
دینی سرمایہ اوراس کا نفع ونقصان:
	شریْکِ تجارت سے  حساب و کتاب کا مطلب یہ  ہے کہ  اصل سرمایہ اور نفع و نقصان کا جائزہ  لیا جائے  تاکہ کمی  بیشی معلوم ہو۔پھر اگر  نفع  حا صل ہواہےتو اسے وصول کرکے شکریہ ادا کرےاوراگر نقصان ہوا