اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہنا ہوگا ورنہ وہ تجھے عذاب دے گا۔‘‘
(12)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیتِ مبارکہ:
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿۲﴾ (پ۲۹،القيامة:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس جان کی قسم جو اپنے اُوپر بہت ملامت کرے۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں: مومن ہمیشہ نفس کو جھڑکتا رہتا ہے کہ تونے فلاں بات کیا سوچ کر کہی ؟ فلاں کھانا تو نے کس لئے کھایا ؟ فلاں مشروب تونے کس لئے نوش کیا؟ جبکہ کافر زندگی بسر کرتا رہتا ہےلیکن کبھی اپنے نفس کو نہیں جھڑکتا۔
(13)…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحمت فرمائے جو اپنے نفس کامحاسَبہ کرتے ہوئے کہتا ہے: کیا تو نے فلاں گناہ نہیں کیا؟ کیا تونے فلاں عمل نہیں کیا؟ اور اس کی مذمت کر کے اسے لگام ڈال کر قرآن مجید کا پابند کردیتا ہےتو وہ اس کا راہ نما ہوتاہے۔ اس عمل کو نفس کی سرزنش کرنا کہتے ہیں جیسا کہ آگے بیان ہو گا۔
(14)…حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:متقی شخص اپنے نفس کا محاسَبہ ظالم بادشاہ اور بخیل سے بھی زیادہ کرتا ہے۔
جنت اور جہنم کاتصوُّر:
(15)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے تصور باندھا کہ میں جنتی پھل کھارہا ہوں، اس کی نہروں سے پانی پی رہا ہوں اور وہاں کی حوروں سے گلے مل رہا ہوں پھر میں نے تصور باندھا كہ جہنم میں طوق اور زنجیروں میں جکڑا جہنم کی کڑوی غذا تھوہڑکھا رہا ہوں اور پیپ پی رہا ہوں۔اس کے بعدمیں نے نفس سے کہا: اے نفس!تو کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا :میں دنیا میں جاکر اچھے کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: تیری آرزو پوری ہوئی ،جا نیک عمل میں مصروف ہوجا۔
(16)…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں: میں نے حجاج بن یوسف کوخطبہ دیتے ہوئے سناوہ کہہ رہاتھا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے محاسبہ کا معاملہ غیر تک پہنچنے سے پہلے خود