Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
35 - 784
 نزدیک محبوب ہوتا ہے جو جما ل کا ادراک کرتا ہے۔لہٰذا اگر اس کا ادراک دل کے ساتھ کیا گیا ہے تو وہ دل کا محبوب ہے اور اس مشاہدے میں اس کی مثال انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام، علمائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اور عمدہ و اچھے اخلاق والوں سے محبت کرنا ہے کیونکہ یہ محبت شکل و صورت اور اعضاء کی ظاہری خوبصورتی کے بغیر بھی ممکن ہے اور باطنی صورت کے حسن سے یہی مراد ہے اور ظاہری حِس اس کا ادراک نہیں کر سکتی۔ البتہ اس (صورتِ باطنی)سے صادرہونے والے آثارِ حسنہ جو اس پر دلالت کرتے ہیں ان کا ادراک کیا جاسکتا ہے حتّٰی کہ جب دل اس پر راہنمائی کرے تو قلبی میلان پایا جاتا ہے اور دل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔
	لہٰذا جو شخص رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا صِدِّیْقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یا امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی سے محبت کرتا ہے تو وہ صرف ان کے حسن کی وجہ سے محبت کرتا ہے جو اس کے سامنے ظاہر ہوا۔ ان کی صورتوں اور افعال کے حسن کی وجہ سے محبت نہیں کرتا بلکہ ان کے افعال کا حسن صفات کے حسن پر دلالت کرتا ہے اور صفات افعال کے مصادر(صادر ہونے کی جگہیں) ہیں کیونکہ افعال صفات سے صادر ہونے والے آثار ہوتے ہیں اور صِفات پر دلالت کرتے ہیں،مثلاً جو شخص مصنّف کے حُسْنِ تصنیف، شاعر کے حُسْنِ شعر بلکہ نقاش کے حُسْنِ نقش یا مِعْمار کے حسْنِ تعمیر کو دیکھے تو اس پر ان افعال کی وجہ سے اس کی باطنی صفاتِ جمیلہ منکَشِف ہوجائیں گی جن کا حاصل آخر کار علم اور قدرت ہوتا ہے پھر جس قدر معلوم(یعنی جس کا علم ہوا) اشرف اور کامل جمال و عظمت والا ہوگا اسی قدر علم اشرف اور جمال والا ہوگا اور اسی طرح مقدور (یعنی جس پر قدرت حاصل ہو)جتنا عظیم اور بلند مرتبہ ہوگا اس پر قدرت بھی اتنی ہی زیادہ قدر و منزلت اور شرف والی ہوگی اور معلومات میں سب سے زیادہ بزرگی والی ذاتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہے،لہٰذابلاشبہ سب علوم میں عمدہ اور اشرف علم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت ہے۔یوں ہی جو علم معرِفَتِ الٰہی کے قریب اور اس کے ساتھ مخصو ص ہو۔ پس جس قدر معرفت کے ساتھ اس کا تعلق ہوگا اسی قدر شرف والا ہوگا۔
صِدِّیْقِین سے قلبی محبت کے تین اسباب:
	مذکورہ گفتگو سے یہ بھی پتہ چلا کہ وہ صدیقین جن سے دل طبعی طور پر محبت کرتے ہیں ان کے جمال کی بنیاد تین باتوں پرہے: