نفس کاامتحان :
(9)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے لکڑیوں کا ایک گٹھا اٹھایا تو کسی نے کہا:”اے ابو یوسف!آپ کے بیٹے اور غلام اس کام کے لئے کافی تھے۔“ فرمایا:”میں نفس کا امتحان لینا چاہتا تھا کہ کہیں وہ انکار تو نہیں کرتا۔“
محاسبہ کرنےوالوں کا حساب آسان ہوگا:
(10)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :مومن اپنے نفس پر حاکم ہے، وہ رضا ئے الٰہی کی خا طر اس کا محاسبہ کرتا رہتا ہے اوردنیا میں نفس کامحا سبہ کرنے والوں کا حساب آخرت میں آسان ہوگا جبکہ محا سبہ نہ کر نے والوں کاحساب بروزِ قیامت سخت ہوگا۔
محاسَبۂ نفس کی وضاحت:
حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے خود ہی محاسَبۂ نفس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مومن کے دل میں اچانک کوئی پسندید ہ خیال پید ا ہوتا ہےتو مومن کہتا ہے :’’خداکی قسم! تو مجھے بہت پسند ہے تو میری ضرورت بھی ہے لیکن افسو س ! تیرے اور میرے درمیان ایک رکاوٹ ہے۔‘‘یہ کہہ کر مومن اس پسندیدہ خیال کو ترک کر دیتا ہے ،اسی کا نام عمل سے پہلے محاسَبہ ہے۔پھر فرمایا: بعض اوقات مومن سے کوئی خطا ہوجاتی ہے تو وہ نفس کو مخاطب کرکے کہتا ہے:” تونے کیا سوچ کر ایسا کیا؟“ خداکی قسم !ایسی خطا میں میرا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا ۔خدا کی قسم!آیندہ میں اِنْ شَآءَ اللہکبھی ایسی خطانہیں کروں گا۔
سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کاخوفِ خدا:
(11)…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: میں نے ایک دن سناکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کسی کام سے کہیں جارہے ہیں تو میں بھی ان کے سا تھ نکل گیا حتّٰی کہ آپ ایک باغ میں تشریف لے گئے، میرے اور آپ کے درمیان ایک دیوار حائل تھی۔میں نے آپ کو باغ کے اندرسےفرما تے سنا:’’اے عمر بن خطاب !تو امیرالمؤمنین ہے، واہ واہ شا با ش! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تجھے