Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
348 - 784
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (پ۹،الاعراف:۲۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انھیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
(5)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ رات  کے  وقت اپنے پاؤں پردرّے مارتے اور  نفس سے پوچھتے: آج تو نے کیا عمل کیا؟
(6)…حضرت سیِّدُنامیمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب تک  انسان  نفس سے شریْکِ تجارت کی طرح سختی سے حساب و کتاب  نہ  کر ے  وہ  متقی نہیں بن سکتا اور شرکائے تجارت عمل کے بعد ہی حساب وکتاب کرتے ہیں۔
مجھے  عمر سے زیادہ کوئی عزیز نہیں:
(7)…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فر ماتی ہیں:امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے  وقت وصال مجھ سے فرمایا:”مَا اَحَدٌ مِّنَ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ عُمَر یعنی مجھےعمر سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہیں۔“ پھر استفسار  فر مایا:”کیا کہا میں نے؟“ میں نے وہی بات د ہرا دی  تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”لَا اَحَدٌ اَعَزُّ عَلَیَّ مِنْ عُمَر یعنی  عمر سے زیادہ مجھےکوئی عزیز ترین نہیں۔“
	ملاحظہ   فر مائیے کس طرح امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عمل کے بعد غور و فکر کیا اور ایک بات (اَحَبُّ)کو دوسری بات (اَعَزُّ)سے  تبدیل  فرمایا۔
باغ صدقہ   کر دیا:
(8)…حضرت سیِّدُنا ابوطلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں مروی ہے کہ کسی  پرندے نے ان کی توجہ نماز سے ہٹاکرباغ  کی جانب مبذول کروادی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے غور وفکر کیااور اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے بطورِکفا رہ اپنا باغ راہ ِ خدا میں صدقہ کردیا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…الموطا للامام مالک بن انس، کتاب الصلاة، باب النظرفی الصلوة الی ما یشغلک عنھا، ۱/ ۱۰۷، حدیث:۲۲۵،مفھومًا