محاسَبہ کے متعلق 17رِوایات:
(1)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :اعمال کا محاسَبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارامحاسبہ کیا جائے اور اعمال وَزن کئے جانے سے پہلے اپنے اعمال کا وزن کرو۔(1)
(2)… ایک شخص نے بارگاہ ِرسالت میں عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے نصیحت فرمائیے۔استفسار فر مایا:کیا تم نصیحت کے طالب ہو؟اس نے عرض کی:جی ہاں۔ارشادفرمایا:”جب کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام میں غور و فکر کرلو، اگر انجام اچھا ہوتو اسے کرلو اور اگر براہو تو نہ کرو۔“(2)
(3)…ایک رِوایت میں ہے:عقل مندکے لئےایک ساعت ایسی ہونی چاہئے جس میں وہ اپنے نفس کا محاسَبہ کرے۔(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾ (پ۱۸،النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
توبہ عمل پر شرمندہ ہو نے کانام ہے۔
(4)…رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اِنِّی لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍیعنی بے شک میں دن میں100مرتبہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں(4)۔(5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة، باب رقم۲۵، ۴/ ۲۰۸، حدیث:۲۴۶۷
الزھد لابن المبارک، باب الھرب من الخطایا والذنوب، ص۱۰۳، حدیث:۳۰۶
2…الزھد لابن المبارک، باب التحضیض علی طاعة اللّٰہ، ص۱۴، حدیث:۴۱
کتاب الزھد للامام وکیع بن الجراح، باب الاستعداد للموت، الجزء الاول الف، ص۲۴۲، حدیث:۱۶
3…صحیح ابن حبان، کتاب البر والاحسان، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا، ۱/ ۳۸۸، حدیث:۳۶۲
عیون الاخبار لابن قتیبة الدینوری، کتاب السؤدد، باب العقل،۱/ ۳۹۳
4…مُفَسِّر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کی شرح میں مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ353 پر ارشاد فرماتے ہیں:توبہ واستغفار روزے نماز کی طرح عبادت بھی ہے، اسی لیے حضور انور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اس پر عامل تھے یا یہ عمل ہم گنہگاروں کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) معصوم ہیں گناہ آپ کے قریب بھی نہیں آتا۔
5…سنن ابن ماجہ، کتاب الادب، باب الاستغفار، ۴/ ۲۵۶، حدیث:۳۸۱۵