Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
346 - 784
٭…بعض لوگ کھانے پینے کی اشیاء کی تخلیق کو دیکھ صفات باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ ان  کے لئے مخلو ق  کامشاہدہ غورو فکر کا سبب  بنتا ہے اور یہ نہا یت  اعلیٰ مقام ہے۔اسےعارفین کا مقام اور مُحبِّین کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ مُحب جب اپنے محبوب کی کوئی تصنیف یا اس کی بنی ہوئی کسی شے کو دیکھتا ہے تو وہ کاریگری  کو بھول جاتا ہے اور اس کا دل تخلیق کرنے والے میں مشغول ہوجاتا ہے۔بندہ کسی بھی مخلوق میں غور و فکر کرے  اس میں ذاتِ باری تعالیٰ کی نشانی ضرور پائے گا بشرطیکہ اس کے لئے غیبی دروازے کھو ل دیئے جائیں لیکن  ایسے لو گ  بہت کم پائے جاتے ہیں۔
٭…کچھ لوگ کھانے پینے کی اشیاء میں  بہت حرص و رغبت رکھتے ہیں نہ ملنے پرافسوس اورمل جا نے پر خوش ہوتے ہیں اور اگر ملنے والی اشیاء خواہش کے مطابق نہ  ہوں تواس میں عیب نکالتے ہیں اور  کھلانے اور بنا نے والوں کو خوب بر ابھلاکہتے ہیں۔یہ بے شعور لوگ  یہ بھی نہیں سوچتے  کہ انہیں پکانے  کا طریقہ  و سلیقہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کی جانب سے عطا ہواہے نیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اجازت کے بغیر اس کی مخلوق کی مذمت کرنے والاشخص گویا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مذمت کرنے والا  ہے۔اسی وجہ سے رسولِ اکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ  فَاِنَّ اللّٰہَ هُوَ الدَّهْر یعنی زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی نے زمانے کو پیدا فرمایا ہے۔“(1)
	 مراقبہ کے دوسرے رتبہ کا بیان مکمل ہوا،اس کی تفصیل بہت طویل ہے ہم نے مختصراً بطور تنبیہ چند باتوں کا ذکرکر دیا ہے،اگر کسی  نے ان باتوں کو سامنے رکھ کرہمیشہ عمل کیاتو اس  کے لئے  یہی کافی ہیں۔
باب نمبر3:			   عمل  کے  بعد نفس کامحاسبہ(اس میں دو فصلیں ہیں)
پہلی فصل :				محاسبہ کی فضلیت
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ (پ ۲۸،الحشر:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو  اور ہرجان دیکھے کہ کل کے لیے  کیا آ گے  بھیجا۔
	اس آیت میں عمل کےبعد محاسبہ کی طرف اشارہ ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…مسلم، کتاب الفاظ من الادب، باب النھی عن سب الدھر، ص۱۲۳۴، حدیث:۲۲۴۶