Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
345 - 784
 الْمُؤْمِنُ طَامِعًا اِلَّا فِی ثَلَاثٍ تَزَوُّدٍ لِمَعَادٍ اَوْمَرَمَّةٍ لِمَعَاشٍ اَوْلَذَّةٍ فِی غَیْرِ مُحَرَّمٍ یعنی مومن صرف تین باتوں کی خواہش رکھتا ہے (۱)آخرت  کی تیاری (۲)زندگی کی درستی اور(۳) حلال چیز کی لذت۔“(1)
عقل مند شخص کے اوقات:
	حضرت سیِّدُنا ابوذرغفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہی مروی دوسری روايت میں ہے کہ عقل مند شخص کے اوقات چار اقسام کے ہوتے  ہیں:(۱)…جس میں  ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگا ہ  میں مناجات کرے (۲)…جس میں  محاسَبۂ نفس کرے (۳)…جس میں خَلْقِ خُدا میں غور وفکر کرے اور (۴)…جس میں کھانے پینےکاانتظام کرے۔(2)
	کھانے کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ کھانے پینے کاوقت باقی تین  اوقا ت  کے لئےمدد گار  ثابت ہوتا ہے، البتہ کھانے پینے کے وقت کوبھی افضل عمل یعنی ذکر و فکر  میں گزارے۔مثلاً جو کھانا  کھارہاہے  اس میں ہزارہا حکمتیں  ہیں کہ اگر انہیں غور و فکر  کے ذریعے سمجھنے  کی کوشش کرے  تو یہ بہت سےجسمانی  اعمال سے افضل واعلیٰ ہے۔اس سلسلے میں لوگوں کی کئی اقسام ہیں۔
 کھانے پینے کی اشیاءکے متعلق لوگوں کی اقسام:
٭…بعض لوگ کھانے کوعبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کس طرح  جاندار کی زندگی کواس سے وابستہ فر مایااوراس كے  حصول کےکیسے کیسےاسباب بنادئیے؟ کھا نے کی  خواہشات  کو پیدا فرمایا اور انہیں ان  خواہشات کا پابند کیا۔اس طرح  کی بعض باتیں  ہم’’صبر وشکر کے بیان‘‘میں ذکر  کرچکےہیں۔اس قسم کی غور وفکر  بصیر ت یافتہ لوگ  ہی کرتے ہیں اور یہ ان ہی کا مقام ہے۔
٭…کچھ لوگ  کھانے پینے کی اشیاء کو(دنیا ہونےکی وجہ سے) ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،اگر استعمال کرتے بھی ہیں تو نہایت مجبوری کی حالت  میں نیز ان کی خواہش  ہوتی ہے کہ  کھانے پینے سے بے نیاز کر دئیے جائیں لیکن مجبورہوتے  ہیں۔ یہ دنیا سے بے رغبتی رکھنے والوں کا مقام ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…صحیح ابن حبان، کتاب البر والاحسان، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا، ۱/ ۳۸۸، حدیث:۳۶۲
	قوت القلوب،الفصل السادس والعشرون:ذکرمشاھدةاھل المراقبة، ۱/ ۱۶۰
2…صحیح ابن حبان، کتاب البر والاحسان، باب ما جاء فی الطاعات وثوابھا، ۱/ ۳۸۸، حدیث:۳۶۲