ممکن ہو تو نوافل کی طرف متوجہ ہواور افضل ترین عمل میں مشغولیت اختیار کرے کیونکہ جو شخص زیادہ نفع حاصل کرسکتا ہے لیکن حاصل نہ کرے تو وہ خسارے میں شما ر کیا جا تاہے اورآخرت کے نفع کی زیادتی نفلی اعمال کے زیادہ ہونے سے حاصل ہوتی ہے یوں بندہ دنیا سے آخرت کا حصہ لے لیتا ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (پ۲۰،القصص:۷۷) ترجمۂ کنز الایمان:اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول۔(1)
یہ سب باتیں كسی بھی ایک وقت میں صبرکر کے حاصل ہوسکتی ہیں کیونکہ اوقات تین ہیں۔
تین اوقات:
(۱)…گزرا ہوا وقت خواہ مشقت میں گزراہو یاآرام میں لیکن اب اس میں کچھ نہیں کیاجاسکتا (۲)…مستقبل میں پیش آنے والا وقت جس کابندے کو علم نہیں کہ زندہ رہے گا یا نہیں؟ نہ اس بات کا علم ہے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گااور(۳)…موجودہ وقت، اس میں بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کوپیش نظر رکھ کرنفس سے مجاہدہ کرے تاکہ اگر آ نے والازمانہ نصیب نہ بھی ہوتو اس کے ضائع ہونے کا افسوس نہ ہو اور اگر اگلا زمانہ بھی نصیب ہوگیاتو اس میں بھی پچھلے کی طرح خوب عمل کر کے حق وصول کرے۔ پچاس سال زندہ رہنے کی امید نہ با ندھے کیونکہ اس طرح لمبی مدت کاخیال مراقبہ سے روکے گا بلکہ یہ ذہن بنانا چاہئے کہ زندگی کا وقت پورا ہوچکاہے، معلوم بھی نہ ہوا اورآخری سانس کاوقت آگیا،اب سا نس کی مالا ٹوٹنے ہی والی ہے۔ جب ایسا ممکن ہےکہ یہی آخری سانس ہو تو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ روح قبض کی جارہی ہوتو ناپسندیدگی نہ ہو اور احوالِ زندگی حضرت سیِّدُناابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث کی طرح ہوں کہ سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَایَکُوْنُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اس آیت کےتحت صدرالافاضل مفتی سیِّدمحمدنعیم الدین مرادآبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی’’تفسیرخزائن العرفان‘‘میں فرماتے ہیں: یعنی دنیا میں آخرت کے لئے عمل کر کہ عذاب سے نجات پائے اس لئے کہ دنیا میں انسان کا حقیقی حصہ یہ ہے کہ آخرت کے لئے عمل کرے صدقہ دے کر صلہ رحمی کر کے اور اعمالِ خیر کے ساتھ اور اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی صحت و قوت و جوانی و دولت کو نہ بھول اس سے کہ ان کے ساتھ آخرت طلب کرے۔ حدیث میں ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، ثروت کو ناداری سے پہلے، فراغت کو شغل سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے۔