Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
342 - 784
تین باتوں کے سبب ایمانِ کامل:
	دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں:تین باتیں جس میں پائی جائیں وہ کامل ایمان  وا لا ہے:(۱)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے (۲)…کسی عمل میں ریاکاری نہ کرے اور(۳)…جب سامنے دو باتیں پیش ہوں ایک کا تعلق دنیا سے ہو اور دوسری  کاآخرت سے تو  دنیا پر آخرت کو ترجیح دے۔(1)
	اکثر اوقات یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ عمل مباح ہے لیکن وہ بے فائدہ ہوتا ہےتو ایسے عمل کو چھوڑدے کیونکہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہٖیعنی آدمی کے اسلام کی خوبی سے ہے کہ وہ بے فائدہ کام کو چھوڑ دے۔“(2)
دوسرا مر حلہ:			عمل شروع کرتے وقت  غور وفکر
	  عمل شروع کرتے وقت کیفیَتِ عمل کاجائزہ لے تاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حق کو پورا کرسکے اور اسے پورا کرنے میں اچھی نیت کر ے اورپورے طو ر پرانجا م دےاوراسے بجا لانے میں پوری کو شش صرف کرے۔ یہ تمام باتیں  ہروقت لازم  ہیں کیونکہ انسان کاکوئی لمحہ حرکت وسکون سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا انسان جب  ہرلمحہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات کوپیش نظر  رکھے گا تو اچھی  نیت،حُسْنِ عمل اور ادب کے سبب عبادت پر قادر ہوگا۔
قبلہ رو بیٹھنا سنت ہے:
	مثلاً جب  بیٹھے تو قبلہ رو بیٹھے کیونکہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”خَیْرُ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِہِ الْقِبْلَةُ یعنی بہترین نشست  قبلہ رو ہوکربیٹھنا ہے ۔“(3)
	چار زانوں ہوکر نہ بیٹھے کیونکہ بادشاہوں کے سامنے اس طرح نہیں بیٹھاجاتا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تو تمام بادشاہوں کا بادشاہ ہے جواُس پر مطلع بھی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…قوت القلوب،الفصل الثالث والعشرون:محاسبةالنفس، ۱/ ۱۳۹
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب۱۱، ۴/ ۱۴۲، حدیث:۲۳۲۴
3…المصنف لابن ابی شیبة، کتاب الادب، باب من کان یستحب اذا جلس ان یجلس مستقبل القبلة، ۶/ ۱۶۳، حدیث:۱