٭…دوررہنے والے بہت سے لوگ انتہائی قریب ہوتے ہیں۔
٭…اجنبی وہ ہےجس کاکوئی دوست نہیں۔
٭…صدیق وہ ہے جو بغیر دیکھے تصدیق کرے۔
٭…بدگما نی تمہیں کسی بھی دوست سے محروم نہ کر ے۔
٭…فر اخ دلی بہترین وصف ہے۔
٭…ہر اچھی بات کی بنیاد حیا ہے۔
٭…تقوٰی سب سے مضبوط رسی ہے۔
٭…سب سے مستحکم سبب وہ ہے جو تمہارے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہو۔
٭…دنیا میں تمہارے لئے سب سے اچھی چیز وہ ہے جس کے ذریعے تم اپنی آخرت سنوارو۔
٭…رزق دو ہیں ایک وہ جسے تم تلاش کرواور دوسرا وہ جو تمہیں تلاش کرے کہ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو تو وہ خود تمہارے پاس آجائے۔
٭…اگر تم مصیبت پہنچے پر واویلا کرو توکسی چیز کے نہ ملنے پر واویلا نہ کرو بلکہ اس کے بارے میں یہ گمان کرو کہ وہ ہے ہی نہیں کیونکہ تمام اُمور یکساں ہیں کہ انسان باقی رہنے والی نعمت کے حصول پر خوش ہوتا ہے اور جسے حاصل نہ کرسکے اس پر ناخوشی کااظہار کرتا ہے۔
٭…تمہیں دنیا میں جو کچھ ملے اس پر زیادہ خوش نہ ہو اور جو تمہیں نہ مل سکا اس پر افسوس بھی نہ کرو۔
٭…تمہیں آخرت کے لئے کئےجانے والے اعمال پر خوش ہونا چاہئے اور غفلت پر افسوس کرنا چاہئےلہٰذا آخرت میں مشغول ہوجاؤ اور قبر کی تیاری میں لگ جاؤ۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ان فر امیْنِ مُبارَکہ کو ذکر کر نے کا مقصد یہ ہے کہ پر یشا نی میں غورو فکر سے کام لینا توفیْقِ خداوندی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مراقبہ کرنے والے کو سب سے پہلے یہ غو ر وفکر کر نی چاہئے کہ اس کےارادے اور دل میں عمل کے لئے پیدا ہو نےوالی حرکت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئے ہے یا نفسانی خواہشات کے لئے؟