(1)…
وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا﴿۱۱۳﴾ (پ۵،النسآء:۱۱۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔
اس آیت میں فضل سے مراد علم ہے۔
(2)…
فَسْـَٔلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکْرِ اِنۡ کُنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾ (پ۱۴،النحل:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان: تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔
(3)…
اِنَّ عَلَیۡنَا لَلْہُدٰی ﴿۫ۖ۱۲﴾ (پ۳۰،اللیل:۱۲) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔
(4)…
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾ (پ۲۹،القیامة:۱۹) ترجمۂ کنز الایمان:پھر بے شک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمّہ ہے۔
(5)…
وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیۡلِ (پ۱۴،النحل:۹) ترجمۂ کنز الایمان:اور بیچ کی راہ ٹھیک اللہ تک ہے۔
سیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ عَنْہ کے اقوال زریں:
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:
٭…نفسانی خواہشات اندھے پن کانام ہے۔
٭…پر یشا نی میں غورو فکر سے کام لینا توفیْقِ خُداوندی ہے۔
٭…غم کو ٹالنے والی بہترین چیز یقین ہے۔
٭…جھوٹ کاانجا م ند امت ہے اور سچ بو لنے میں عا فیت وسلامتی ہے۔