اورضروری اسباب کے ساتھ مکمل کیا۔ پھر ان پر احسان فرمایا کہ ان کے لئےوہ اسباب پیدا کئے جن میں حاجت کا شائبہ ہے اگرچہ ان میں ضرورت کا شائبہ نہیں تھا۔پھرانہیں ایسے زوائد کے ساتھ مزیّن کیا جن میں زینت کا شائبہ ہے اور ان کی حاجت اور ضرورت سے خارج ہیں۔
ضروری اعضاء کی مثال جیسے سر، دل اور جگر ہے اور جو اعضاء حاجت کے مرتبے میں آتے ہیں وہ آنکھ، ہاتھ اور پاؤں ہیں اور زینت کے زمرے میں آنے والے اعضاء کی مثال جیسے اَبرو کا کمان کی شکل میں ہونا، ہونٹوں کی سرخی اور آنکھوں کی رنگینی وغیرہ کہ ان میں سے کسی چیز کافُقْدان(یعنی نہ ہونا) حاجت اور ضرورت سے تعلق رکھنے والی چیز کا فقدان نہیں ہے۔بدنِ انسانی سے خارج ضروری نعمتوں کی مثال پانی اور غذا ہے اور حاجت کی مثال دوا،گوشت اور پھل ہیں اور زوائد کی مثال درختوں کی ہریالی،پھولوں اور کلیوں کی رنگینی، پھلوں اور کھانوں کی لذتیں کہ ان کے نہ ہونے سے ضرورت اور حاجت معدوم نہیں ہوتیں۔
یہ تینوں قسم کی نعمتیں ہر حیوان بلکہ ہر نباتات حتّٰی کہ فرش سے عرش تک ہر قسم کی مخلوق کے لئے پائی جاتی ہیں۔معلوم ہوا کہ وہی ذات محسن ہے اس کے علاوہ کوئی کیسے محسن ہوسکتا ہے حالانکہ محسن کا احسان بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت سے ہےکیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّ ہی بھلائی،محسن،احسان اور احسان کے اسباب کا خالق ہے تو اس وجہ سے بھیغیر اللہسے محبت کرنا محض لاعلمی ہے اور جو اس بات کو جان لے گا وہ اس وجہ کی بنا پر صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ہی محبت کرے گا۔
جمال والے سے محبت:
٭…چوتھے سبب کے اعتبار سے دیکھیں اور وہ یہ ہے کہ ہر جمال والی چیز سے اس کے جمال کی وجہ سے محبت کرنا اس لئےنہیں کہ جمال کے علاوہ کوئی اور فائدہ حاصل کیا جائے اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ محبت بھی جِبِلّی اور فطری ہے اور یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ جمال دو قسم کا ہوتا ہے:(۱)ظاہری صورت کا جمال جس کا ادراک سر کی آنکھوں سے کیا جاتا ہے۔ (۲) باطنی صورت کا جمال جس کا ادراک دل کی آنکھ اور نورِ بصیرت سے کیا جاتا ہے۔پہلی قسم کا ادراک بچے اور چوپائے بھی کر سکتے ہیں جبکہ دوسری قسم کا ادراک اصحابِ دل کے ساتھ خاص ہے اور جو لوگ دنیاوی ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں وہ ان کے ساتھ شریک نہیں اور ہر جمال اس کے