اس نے سرکارمدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فر مان کی بھی مخالفت کی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں:”اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَ اَکْذَبُ الْحَدِیْث یعنی اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔“(1)
اس سے مراد بغیر دلیل والے گمان ہیں جیسے عوام مشتبہ اُمور میں اپنے دل سے فتوٰی لے کر اپنے گمان کے مطا بق عمل کر لیتے ہیں ۔اس معاملے کی نزاکت و عظمت کے پیش نظر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں دعا فرمایا کرتے:”اَللّٰھُمَّ اَرِنِی الْحَقَّ حَـقًّا وَارْزُقْنِی اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنِی الْبَاطِلَ بَاطِلًاوَارْزُقْنِی اجْتِنَابَہٗ وَلَا تَجْعَلْہٗ مُتَشَابِھًا عَلَیَّ فَاَ تْبَعُ الْھَوٰی یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھ پر حق کو واضح فرماکر اس کی اتباع کی توفیق عطا فرما اور باطل کو میرے سامنے واضح کرکے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما اور مجھ پر کسی مُعاملے کو مشتبہ نہ فر ماکہ میں نفسا نی خواہشات کی پیروی میں لگ جا ؤں ۔“
معاملات کی تین قسمیں:
حضرت سیِّدُنا عیسٰی روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:مُعاملات تین قسم کے ہیں:(۱)…جس کا اچھا ہونا ظاہر ہو اس کی اتباع کرو (۲)…جس کی خرابی وگمراہی واضح ہو اس سے بچواور (۳)…جس با ت میں تمہیں شبہ لاحق ہواسے کسی عالم سے پو چھو۔(2)
رسولِ اکرم ،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح دعا فرمایا کر تے:”اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَقُوْلَ فِی الدِّیْنِ بِغَیْرِ عِلْم یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں بغیرعلم کے دین میں کوئی بات کرنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“(3)
سب سے بڑی نعمت:
بندوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سب سے بڑی نعمت علم اور حق کوواضح فر ماناہے اور ایمان بھی ایک قسم کا علم اور واضح حق ہے۔اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپراحسان کاذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الفرائض، باب تعلیم الفرائض، ۴/ ۳۱۳، حدیث:۶۷۲۴
2…المعجم الکبیر، ۱۰/ ۳۱۸، حدیث:۱۰۷۷۴
3…قوت القلوب،الفصل الثالث والعشرون:مجالسة النفس، ۱/ ۱۴۳