Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
338 - 784
اعمال کی آفا ت  کا علم:
	اس دور میں اعمال کی آفات کو جاننے کا علم ختم ہوگیا ہے،لو گ اس علم کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفس کی خاطر لوگوں کے درمیان  پیش آنے والے جھگڑوں کے مسائل میں مشغول ہوگئے اور اس کا نام’’ فقہ‘‘ رکھ دیا اور اعمال کی آفات کو جاننے کے علم کو جو کہ علم دین سے ہے اسے علم کی فہرست ہی  سےنکال دیا۔ اب فقہ کا تعلق فقط دنیاداری سے رہ گیا حالانکہ  عِلْمِ فقہ کامقصد دلوں  کو دنیاوی مشاغل سے  دور کرکے دین کی سمجھ کے لئے فارغ  کر ناتھااور دنیاوی مسائل کو جاننا توعلم دین کا ایک ذریعہ تھا (لیکن لوگوں نے اس ذریعہ کو مقصد بنالیا)۔
	حدیث پاک میں ہے: تم اِس وقت ایسے زمانے میں ہو کہ تم میں جو عمل میں جلدی کر ے وہ بہتری   پر ہوگا جبکہ عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا  کہ  جو تم میں غوروفکر  کرے گا وہ بہتری  پر ہوگا۔(1)
	یہی وجہ ہے کہ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ایک جماعت نے عراقیوں اور شامیوں سے لڑنے میں توقف کیا کیونکہ ان پر یہ معاملہ مشتبہ ہوگیا تھاجیسے حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص، حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر، حضرت سیِّدُنا اسامہ بن زید، حضرت سیِّدُنا محمد بن مسلمہ اور دیگر صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان۔
	شبہ کے وقت توقف  نہ کر نے والاشخص اپنی خواہش کی پیروی اور اپنی رائے کو فو قیت دینے والاہے  اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں سرکار دو عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا:”جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔“(2)
	جوبھی شخص بلاتحقیق شُبہ  والی چیزوں میں اظہارِرائے  کرتا ہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس ارشاد گرامی کی مخالفت کرنے والاہے:
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۳۶)  	  ترجمۂ کنز الایمان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…قوت القلوب،ذکر الفرق بین علماء الدنیا وعلماء الاٰخرة، ۱/ ۲۷۶
2…سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة المائدة، ۵/ ۴۱، حدیث:۳۰۶۹