بچے جس طرح شیطان سے بچتاہےبلکہ اس سے بھی زیادہ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی بھیجی کہ دنیا کی محبت کے نشے میں مست عالِم کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو،ایساعالِم بندوں کو میری محبت سے دور کرتا ہے اور ایسے علما میرے بندوں کو ڈاکوؤں کی طرح لوٹنے والے ہیں۔
لہٰذاجو دل دنیا کی محبت اور اِس کی حرص و ہَوس کی وجہ سے سیاہ ہو جائیں وہ معرفت اورنو رِ الٰہی سے محروم رہتے ہیں کیونکہ دلوں میں انوار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب متوجہ ہونے سے پیدا ہو تے ہیں تو جو شخص باری تعالیٰ کی بارگاہ سے پیٹھ پھیرے اور اس کے دشمن کی طرف متوجہ ہوجائےنیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےغضب کاسبب یعنی دنیاوی خواہشات کا دلدادہ ہو وہ انوار ِالٰہیہ کی تجلی کیسے حاصل کرسکےگا؟
ارادت مند سب سےپہلے کیا کرے؟
ارادت مندسب سے پہلے اچھی طرح علم حاصل کرے اور کسی ایسے عالِم کو تلاش کرے جو دنیا سے بےرغبت ہواوراگر ایساعالم نہ ملے توکم رغبت والے کو تلاش کرے۔سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتےہیں:”اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْبَصَرَ النَّا قِدَ عِنْدَ وُرُوْدِ الشُّبُھَاتِ وَالْعَقْلَ الْـکَامِلَ عِنْدَھُجُوْمِ الشَّھَوَاتِ یعنی بےشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ شبہات کے وقت پرکھنے والی نگاہ اور خواہشات کے حملے کے وقت کا مل عقل کو پسند فرماتا ہے۔“(1)
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان دو لازم وملزوم چیزوں کواکٹھےبیان فرمایا کیونکہ جس شخص کے پاس خواہشات سے روکنے والی عقل نہ ہو اس کے پاس شبہات کو پرکھنے والی نگاہ بھی نہیں ہوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مَنْ قَارَفَ ذَنْبًافَارَقَہٗ عَقْلٌ لَا یَعُوْدُ اِلَیْہِ اَبَدًا یعنی جس شخص نے گناہ کیا اس کی عقل ہمیشہ کے لئے رخصت ہوجاتی ہے۔“(2)
ذراسوچئے!انسان کےپاس سعادت مندی حاصل کر نےکےلئے عقل ہےہی کتنی؟اب اگراسےبھی گناہوں میں ضائع کر دیاجائے توکیابنے گا؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد الکبیر للبیھقی،الجزء الخامس من کتاب الزھد، ص۳۴۶، حدیث:۹۵۴
2…شعب الایمان للبیھقی، باب فی المطاعم والمشارب، ۵/ ۴۵، حدیث:۵۷۱۸ ،دون’’من قارف زنبا‘‘