Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
336 - 784
استقامت نہیں مل سکتی۔بہت سے لوگ جہالت والےکاموں کواچھاسمجھ کران میں پڑجاتے ہیں حالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کاموں  کوناپسندفرمارہا ہوتا ہے۔
جہالت کا عذر قبول نہیں:
	خبردار!علم سیکھنے پر قادر ہونے کےباوجودجاہل رہنے کا عذر ہرگزقابلِ قبول نہیں بلکہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان پر فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالِم کی دورکعتیں  غیْرِ عالِم کی ہزار رکعات سے افضل ہیں کیونکہ  عالم نفس کی آفات، شیطان کی مکاریوں اور دھوکے کے مقامات سے واقف ہوتا ہےجس کے باعث وہ   ان سے بچ سکتا  ہے جبکہ  جاہل کوتو ان باتوں  کی پہچان ہی  نہیں ہوتی تو وہ بچے گاکیسے؟ جاہل تو ہمیشہ مشقت میں مبتلا رہتا ہے اور شیطان اس  پر ہنس رہاہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں جہالت اور غفلت سے بچا ئے کیونکہ یہ ہربدبختی اور نقصان کی جڑ ہے۔
ہر آدمی پر غوروفکر ضروری ہے:
	ہر آدمی پر لازمی ہے کہ جب وہ کسی کام کا ارادہ یا عملاً سعی کرنا چاہے تو اپنے ارادے اور سعی  سے پہلے اس میں غوروفکر کرے اور کچھ دیر توقُّف کرے یہاں تک نورِ علم کے ذریعے  واضح ہوجائے کہ یہ کام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہےتاکہ اسے کر لیا جائے یا  نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے  ہے تو اس سے بچا جائےاور دل کو اس میں غور وفکر کرنے سے بھی روکاجائے کیونکہ باطل کام   میں مبتلا ہونے سے  پہلےنفس کا احتساب نہ کیا جائے تو اس میں رغبت بڑھ جاتی ہے اور رغبت ارادے کو جنم دیتی ہے اور ارادہ عمل  کا سبب بنتا ہے اورباطل عمل بر بادی اورخداتعالیٰ سے دوری کا سبب ہوتا ہے۔اسی لئے شر کے مادے یعنی قلبی وسوسوں کو شروع ہی میں جڑسے اکھا ڑ پھینکناچاہئے کیونکہ دیگر امور اسی کی پیروی  میں رونماہو تےہیں۔
خود غوروفکر نہ کرسکے تو کیا کرے؟
	جب کسی شخص کو شیطانی مکر وفریب  کا علم نہ ہوسکے اور حقیقت  واضح طور پر سامنے نہ آسکے تو نورِ علم سے اس میں غور و فکر کرے اورنفس میں پیداہونے والے  شیطانی مکروفریب سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگے اور اگر خود غوروفکر بھی  نہ کرسکے تو علمائے کرام سے راہ نما ئی حاصل کرے  مگر گمراہ کن اور دنیادارعلما سے اس طرح