دوبارہ کیاجائےیہاں تک کہ پلک اور انگلی کوبھی سوچ و بچار کے بعد حرکت دے۔
حسن اخلاق کے پیکر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’بے شک آدمی سے آنکھوں کے سرمے،انگلیوں سے مٹی کھرچنے اور اپنے بھائی کے کپڑوں کو چھونے کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔‘‘(1)
غوروفکر کے متعلق چاراقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بزرگانِ دین صدقہ کرنا چاہتے تو غور و فکر کرتے اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا نظر آ تی تو صدقہ کردیتے۔
(2)…آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہی سے منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جو کسی چیز کا ارادہ کرتے وقت غو روفکر کر تا ہے پھر اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو تو کر گزرتا ہے اور اگر غیْرِخدا کے لئے ہو تو رک جاتا ہے۔
(3)…حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مر وی ہے کہ انہیں حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا:جب کسی بات کا ارادہ کرو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو۔(2)
(4)…حضرت سیِّدُنا محمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :مومن خوب غور و فکر کرنے والا ہوتا ہے اور سوچ سمجھ کر کسی کام كا ارادہ کرتا ہے۔وہ رات کے وقت لکڑیاں چننے والے کی طرح نہیں ہوتا(کہ جو کچھ مل جائے اسے اٹھالے)۔
یہ مراقبہ کے سلسلے میں پہلا مرحلہ ہے جس میں انسان پختہ علم، اعمال کے اَسرارپرحقیقی معرفت اور نفس و شیطان کے مکروفریب کی آگاہی سے ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔لہٰذاجب تک انسان اپنی ذات ،اپنے رب، اپنے دشمن یعنی شیطان اورنفسانی خواہش کےموافق اشیاء کو جان نہ لے یا اپنی حرکات وسکنات،نیت وارادے میں رب تعالیٰ کے نزدیک اچھی بُری اشیاءکے درمیان فرق کو جان نہ لے اس وقت تک مراقبہ پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیة الاولیاء،۱۰/ ۳۱، حدیث:۱۴۴۰۶،الرقم:۴۴۵،احمد بن ابی الحواری
قوت القلوب،الفصل الثامن والثلاثون:فی الاخلاص وشرح النیات، ۲/ ۲۷۳
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الزھد فی الدنیا، ۴/ ۴۲۳، حدیث:۴۱۰۴