اوقات واوصا ف سے آگاہی ممکن نہیں لہٰذا اس سے سوال ہوگا کہ یہ عمل عِلْمِ یقین کےساتھ کیا یا جہالت اور گمان کے باعث کیا؟اگر اس مرحلے میں بھی کامیاب رہا تو تیسرا سوال اخلاص کے بارے میں ہوگا کہ کس کے لئے عمل کیا؟ خالصۃً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا اور ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“ پر عمل کرتے ہوئے کیا؟اگر یہ صورت ہو تو بندے کا اجر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کرم پر ہوگااور اگرلوگوں کو دکھانے کے لئے کیاتو اجر بھی انہی سے طلب کرنے کا فرمایا جائے گااور اگر دنیاوی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے عمل کیا تو فرمایاجائے گا:”تجھے اس کااجر دنیاوی نعمتوں کی صورت میں ہم نے دے دیا۔“اگر غفلت اور بھول کے طور پر عمل کیا تو اجر بھی ضائع عمل بھی ضائع اور کوشش بھی برباد گئی۔ اگر غیْرِخداکے لئے عمل کیاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب اور ناراضی لازم ہوگئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سےفر مائے گا:تومیرا بندہ تھا میرا رزق کھاتاتها اور میری نعمتوں سے نفع حاصل کرتا تھا پھر بھی تو نے دوسروں کے لئےعمل کیا۔ کیا تونے میرے یہ فرامین نہ سنے تھے:
(1)…
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (پ۹،الاعراف:۱۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وه جن كوتم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں۔
(2)…
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ لَایَمْلِکُوۡنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوۡا عِنۡدَ اللہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوۡہُ (پ۲۰،العنکبوت:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو۔
تجھےکیا ہوگیا کہ تو نے میری یہ بات بھی نہ سنی:
اَلَا لِلہِ الدِّیۡنُ الْخَالِصُ ؕ (پ۲۳،الزمر:۳) ترجمۂ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
جب بندہ اس با ت کو سمجھ جاتاہے کہ اسے اس طرح کے مختلف سوالات اور زبر دست بازپُرس کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ اپنے نفس کوان سوالات کے ہو نے سے پہلے ہی سوالات اور باز پُرس کے لئے تیارکرتا ہے تاکہ درست جواب دے سکے۔الغرض !ہر کام میں غور وفکر لازمی ہونا چاہئےخواہ وہ کام شروع کیا جائے یا