طرح بندوں کے مر تبے باری تعالیٰ کے مرا قبہ کے سلسلے میں مختلف ہیں۔ بیان کردہ دونوں مرتبے والے حضرات اپنی تمام حرکات وسکنات ،لمحات وخیالات اور تمام اختیارات پر غور و فکر کے محتاج رہتے ہیں۔
غور وفکر کے مراحل
غور وفکر کے دومرحلے ہوتے ہیں:(۱)…عمل شروع کرنے سے پہلےاور(۲)…عمل کرتے وقت۔
پہلا مرحلہ: عمل سے پہلےغوروفکر
عمل سے پہلے غور وفکر کرنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ سامنے ظاہر ہوا یا دل میں عمل کے لئے حرکت پیدا ہوئی تواس پر غور کرلے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لئے ہے یا نفسانی خواہشات کی وجہ سے یا شیطان کی پیروی میں ہے؟پھر اس سلسلے میں خوب غوروفکر کرے حتّٰی کہ نورِ حق کے ذریعےاس پر کوئی بات واضح ہوجائے۔پھراگر وہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہو تو کرلے اور اگر نفس وشیطان کی طرف سے ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا کرتے ہوئے اس کام سے باز رہےاور نفس کو اس گناہ کی طرف رغبت کرنے اور مائل ہونے پر ملامت کرے نیزنفس کواس فعل کی برائی سے آگاہ کرے اور بتائے کہ یہ رُسوائی کی کوشش ہے، اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ محفوظ نہ رکھتا تو یہ عمل خود سے دشمنی کرنے کےمترادف ہوتا۔
کسی عمل کے گناہ یانیکی کا علم ہونے تک یہ غوروفکر ضروری اور واجب ہے۔اس سے راہِ فرار کی گنجائش نہیں۔
ہر عمل کے متعلق تین سوال:
روایت میں آتا ہے کہ بندے کاعمل کتنا ہی چھوٹا ہواس کے با رے میں تین سوالات کیے جائیں گے: (۱)…یہ عمل کیوں کیا؟ (۲)…کیسے کیا؟اور(۳)…کس کے لئے کیا؟ (1)
مطلب یہ ہے کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اپنے رب تعالیٰ کاحکم سمجھ کر کیایاخواہِشِ نفس کی وجہ سے ؟ اگر بندہ اس مرحلے میں کامیا ب ہو گیا کہ اس کا م کورب تعالیٰ کاحکم سمجھ کر کیا تو دوسرا سوال ہوگا کہ کیسے کیا؟ کیونکہ ہر عمل میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے کچھ شرائط واحکام ہوتے ہیں اور بغیر علم کے اس کی مقدار اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثالث والعشرون:محاسبةالنفس، ۱/ ۱۴۳، ۱۴۴