Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
332 - 784
 نہ دیکھا۔ تیسرےدن میں نے  دل میں کہا:مجھے  انہیں   نصیحت  کرنے کے لئےقسم دینی چاہئے تاکہ ان کی نصیحت سے مجھے کوئی  فا ئدے کی با ت معلوم ہو۔اسی دوران  نوجوان نے  سر اٹھایا اور کہا:”اے ابن خفیف! ایسے شخص کی صحبت  اختیار کروجسے دیکھ کر خدا یاد آجائے اور اس کی عظمت وہیبت تمہارے دل پر چھاجائے، وہ تمہیں زبان سے نہیں عمل سے نصیحت کرے۔وَالسَّلاماب تم جا ؤ۔“
	یہ ان مراقبہ کرنے والوں کا ر تبہ ہے جن کے دلوں پر عظمت وہیبت کا اتناغلبہ ہوتا ہے کہ کسی دوسرے  کے خیال  کی گنجائش نہیں ہوتی۔
دوسرا مرتبہ:
	اُن مقربین کا مراقبہ جو اصحابِ یمین متقی حضرات ہیں۔انہیں کامل  یقین ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان کے ظا ہر و باطن پر مطلع ہے۔ یہ جلالِ الٰہی  کوملاحظہ کرنے کے باوُجود مدہوش نہیں ہوتے بلکہ ان کے دل حدِ اعتدال پر رہتے ہیں اور دیگر اعمال کی طرف توجہ ہونے  کے باوجود مراقبہ سے غافل نہیں رہتے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف ان پر غالب  ہوتا ہے جس کےباعث یہ  کسی بھی کام کو کرنے اور نہ  کرنے  سے پہلے  خوب  غور وفکر کرتے ہیں۔ چونکہ انہیں یقیْنِ کامل ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر با ت کو جانتا ہےاسی لئے جو چیزبروزِقیامت ذلّت و رسوائی کا سبب بنے یہ پہلے ہی اس سے  بچتے ہیں قیامت کے انتظار  میں نہیں رہتے۔
	مراقبہ کے مذکورہ  دونوں مرتبوں کافرق مشاہدےسے واضح ہوتا ہے مثلاً آپ  اگر تنہائی میں کوئی عمل کر رہے  ہوں اسی دوران اچانک کوئی بچہ یا عورت آجائے  اور آپ کو معلوم ہوجائے کہ وہ آپ کے عمل سے واقف ہوچکےہیں تو آپ  ان سے  جھجک محسوس کریں گے اور اچھی طرح سنبھل کر بیٹھیں   گے نیزاپنے معاملات پر نظر بھی رکھیں  گے  لیکن یہ سب کچھ آپ  بچے یاعورت  کی تعظیم  کی وجہ سے نہیں بلکہ  جھجک اور حیا کی وجہ سے کررہے ہوں گے۔واضح ہواکہ بچے یاعورت کاآپ کوتنہائی میں دیکھ لیناخوف ودہشت میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ اس سے تو فقط آپ  میں حیا اور جھجک  پیدا ہوتی ہے۔ کبھی اس کے بر عکس معاملہ پیش آتا ہے کہ  آپ کے پاس کوئی بادشاہ یا  بزرگ شخصیت آجاتی ہے، آپ ان  کی تعظیم بجا لانے میں کوئی کسر نہیں  چھوڑتے حتّٰی کہ اپنی تمام مصروفیات  چھوڑ دیتےہیں اور یہ سب  تعظیم  کی وجہ سے ہوتاہے حیا کی وجہ سے نہیں۔اسی