تو انہیں نہایت دل جمعی اور خاموشی سے ایک گو شہ میں بے حس و حرکت بیٹھا پایا۔حضرت سیِّدُنا ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے پوچھا:”آپ نے ایسی دل جمعی اورمراقبہ کہاں سے سیکھا؟“فرمایا:”ہماری ایک بلی تھی اس سے سیکھا ہےیوں کہ جب وہ شکار کا ارادہ کرتی تو بِل کے پاس گھات لگا کر اس طرح بیٹھتی کہ اس کا ایک بال بھی حرکت نہ کرتا۔“
حکایت :ایک نوجوان کی نصیحت
حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہ بن خفیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں مصر سے رَمْلَہ حضرت سیِّدُنا ابوعلی روذباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیسے ملاقات کے لئے نکلاتو مجھ سے حضرت سیِّدُناعیسیٰ بن یونس مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے جو زاہد کے لقب سے مشہور تھےفرمایا:”مقامِ صُور میں ایک نوجوان اور ایک ادھیڑ عمر شخص مراقبہ کی حالت میں ہیں، اگر تم ان سے ملنے جاؤ تو شایدتمہیں فائدے کی کوئی بات معلوم ہو۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں مقامِ صور میں بھوکا پیاسا داخل ہوا،میرے جسم پر فقط اتناکپڑاتھاجس سے ستر چھپ سکے۔میں مسجد میں داخل ہوا تو دو آدمیوں کو قبلہ رخ بیٹھے ہوئے پایا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے انہیں دوسری اور تیسری بار سلام کیا لیکن پھر بھی کو ئی جواب نہ سنا تو میں نے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کر کہا کہ میرے سلام کا جواب دیجئے۔ نوجوان نے مراقبہ سے سر اٹھاکر میری طرف دیکھ کر کہا:”اے ابْنِ خفیف!دنیا بہت مختصرہے اور اس مختصر میں سے بھی بہت کم باقی رہ گئی ہےلہٰذا تم اس مختصر سی دنیا میں زیادہ سے زیادہ عمل کرو۔اے ابْنِ خفیف! تمہاری مصروفیات کتنی کم ہیں کہ ہم سے ملنے چلے آئے!“حضرت سیِّدُنا ابْنِ خفیفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اس کی بات نے مجھے مکمل طور پر جکڑلیا پھر وہ نوجوان سر جھکاکر دوبارہ مراقبہ میں مشغول ہوگیا۔ میں ان دونوں کے پاس ٹھہرا رہا حتّٰی کہ ہم نے ظہر اور عصر کی نماز پڑھی جبکہ میری بھوک اور پیاس سب ختم ہوچکی تھی۔ عصر کے وقت میں نےان سے کہا:مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔نوجوان نے سر اٹھا کرکہا:”اے ابْنِ خفیف!ہم خود مصیبت میں ہیں،ہمارے پاس نصیحت والی زبان نہیں ہے۔“حضرت سیِّدُنا ابن خفیف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں تین دن ان کے پاس رہا، اس دوران میں نے کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی میں سویا اور میں نے ان دونو ں کو بھی کچھ کھاتے پیتے