Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
330 - 784
حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ان سے استفسار فرمایا:اے عتبہ!کہاں سے آرہے ہو؟ انہوں نے کہا: ”فلاں جگہ سے۔“اس جگہ کا راستہ چونکہ بازار کی طرف سے تھا لہٰذاحضرت سیِّدُنا عبد الواحد بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دریافت کیا:”راستے میں کس کس  سے ملاقات ہوئی؟“ انہوں نے کہا:”مجھے تو کوئی  دکھا ئی ہی نہیں  دیا۔“
حکایت : میں نے  تو اسے د یوار سمجھا
	مر وی ہے کہ حضرت سیِّدُنایحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَا السَّلَام کسی عورت کے قریب  سے گزرے، اپنا بچاؤ کرنا چاہا تو وہ عورت گر گئی۔ آپ  عَلَیْہِ السَّلَام سے لوگو ں نے  پوچھا:”آپ نے یہ کیا کیا؟“ فرمایا:”میں نے  تو اسے دیوار سمجھا تھا۔“
حکایت : اکثر مخلوق غافل ہے
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں ایک جماعت کے پاس سےگزرا وہ تیر اندازی  میں مقابلہ کر رہے تھے،ا ن میں سے  ایک شخص دور بیٹھا تھا۔ میں اس کے  قریب آیا اوربا ت کر نا چاہی تو اس نے کہا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر میں زیادہ لذت ہے۔“ میں نے پوچھا:”تم یہاں اکیلے کیا کر رہےہو؟“ اس نے کہا:”میرا رب  تعالیٰ اور دو فرشتے میرے سا تھ ہیں۔“ میں نے پوچھا:”ان  تیر اند ازوں میں سے سبقت لے جانے والا کون ہے؟“ فرمایا:”جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے بخش دیا۔“میں نے پوچھا: ”راستہ کہاں ہے؟“ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیااور اٹھ کر چلتے ہوئے کہنے لگا:”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تیری  اکثر مخلوق تجھ سے  غافل ہے۔“
	اس طرح کی گفتگو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مشاہدے میں مستغرق رہنے وا لا شخص ہی کر تا ہے جو صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بات کر تا اور اسی کے بارے میں سنتا ہے۔ایسےشخص کو زبان اور اعضاء کے مراقبہ کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اعضا ء تو دل کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔
سیِّدُناابو الحسین نوری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مراقبہ:
	حضرت سیِّدُناابو بکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حضرت سیِّدُناابو الحسین نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کے پاس آئے