انعام فرمایا اور اپنی کسی غرض اور فائدے کے بغیر محض مخلوق کے فائدے کے لئےان پر احسان کیا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اغراض سے پاک ہے لہٰذا غیرُ اللہ کے لئے سخاوت اوراحسان کا لفظ یا تو جھوٹ ہوگا یا پھر مجازی طور پربولا جائے گا اوران کا حقیقی معنیغیر اللہکے حق میں ایسے ہی محال (ناممکن)ہے جیسے سیاہی اور سفیدی کا جمع ہونا محال ہے۔ معلوم ہوا کہ ذاتِ باری تعالٰی جود و احسان اور فضل فرمانے میں یکتا ہے ۔پس جب طبیعت میں محسن سے محبت کرنا پایا جاتا ہے تو عارف کو چاہئے کہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ہی محبت کرے کیونکہ غیر کی طرف سے احسان کا پایا جانا محال ہے لہذا وہی اکیلا اس محبت کا مستحق ہے اور رہا اس کا غیر تو وہ احسان کی وجہ سے محبت کا مستحق اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ محبت کرنے والا احسان کی حقیقت اور اس کا معنی نہ جانتا ہو ۔
احسان کرنے والے کی ذات سے محبت:
٭…تیسرے سبب کے اعتبار سے دیکھیں اور وہ یہ ہے کہ احسان کرنے والے کی ذات سے محبت کرنا اگرچہ اس کا احسان تم تک نہ پہنچا ہو اور یہ بات بھی فطری اور طبعی ہے کیونکہ اگر تمہیں کسی ایسے بادشاہ کی خبر پہنچے کہ وہ نیک، عبادت گزار،عادل،عالِم اور لوگوں سے شفقت ،مہربانی اور تواضع کے ساتھ پیش آتا ہے اور وہ زمین کے اس حصے میں رہتاہے جو تم سے بہت دور ہے اور ایک دوسرے باد شاہ کی نسبت تمہیں خبر پہنچے کہ وہ ظالِم، مُتکَبِّر، فاسق،لوگوں کی آبروریزی کرنے والااور شریر ہے اور وہ بھی تم سے دور ہے تو تم اپنے دل میں دونوں کے درمیان فرق پاؤ گے کیونکہ پہلے کی طرف تم اپنے دل میں میلان یعنی محبت اور دوسرے سے نفرت پاؤ گے حالانکہ تم پہلے کی طرف سے بھلائی پہنچنے سے مایوس ہو اور دوسرے کی طرف سے برائی پہنچنے سے محفوظ ہو کیونکہ تمہیں ان کے ملکوں میں جانے کی توقع اور امید نہیں، تو یہ محسن سے محبت صرف اس کے محسن ہونے کی حیثیت سے ہے اس لئےنہیں کہ اس نے تم پر احسان کیا ہے۔
باری تعالٰی کا مخلوق پر فضل واحسان:
یہ تیسراسبب بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے کا تقاضا کرتا ہے بلکہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ غیر اللہ سے بالکل محبت نہ کی جائے سوائے اس کے جو کسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تعلق رکھتا ہو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی تمام مخلوقات پر احسان اور فضل فرمانے والا ہے۔وہ پہلےمخلوق کو عدم سے وجود میں لایا۔پھر انہیں اعضاء