مراقبہ میں دل جلالِ الٰہی میں اس قدر مستغرق اور ہیبت الٰہی سے ایسا چور ہوجاتا ہے کہ کسی دوسری چیز کی طرف اس میں بالکل توجہ کی گنجا ئش نہیں ہوتی۔
ہم اس مراقبےکے اعمال کی تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ اس کا تعلق فقط دل سے ہو تاہے،اعضاء سے نہیں۔ اعضا ءجائز کاموں کی طرف توجہ کرتے ہیں نہ ممنوعہ چیزوں کی طرف بلکہ یہ تو نیکیاں کرنے میں دل کے پا بند ہو تے ہیں۔ اسی لئے اعضاء کو صحیح راستے پر قا ئم رکھنے کے لئے کسی تدبیر وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی جیسا کہ نگران اگر درست راہ پرگامزن ہوتو ماتحت افراد بھی درست رہتے ہیں، دل بھی نگران ہے اگر یہ درست رہے اور اپنے معبودعَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ رہے تو ما تحت یعنی اعضا ءخود بخود کسی دشواری کے بغیر درستی اور استقامت پر قائم رہتےہیں۔
اس مرتبے والے شخص کا صرف ایک عزم واراد ہ ہو تاہے اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے باقی تمام فکروں سے بچائے رکھتاہے اور اس درجے پر فا ئز شخص مخلوق سے اتنابے خبر ہوجاتا ہے کہ آنکھیں کھلی رہنے اور قوتِ سماعت درست ہو نے کے باوجود اسے آس پاس کی خبر ہو تی ہے نہ کو ئی بات سنائی دیتی۔کبھی وہ اپنے بیٹے کے پاس سے گزرجاتا مگر اسے اس کاخیال تک نہیں ہو تا۔کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آیا تو انہوں نے توجہ دلانے والے سے فرمایا:”جب تم میرے پاس سے گزرو تو مجھے حرکت دے دیا کرو۔‘‘
آپ اس طرح کی مثا لیں دنیاوی بادشاہوں کی تعظیم کرنے والوں کے دلوں میں پائیں گے کہ یہ شاہی خُدّام بادشاہوں کے دربار میں اس قدر متوجہ ہوتے ہیں کہ ان کو اپنی خبر تک نہیں ہوتی نیز بعض اوقات دل دنیا کے کسی گھٹیا کام میں مشغول ہوکر اس میں اس قدر منہمک ہو جاتا ہے کہ جو کام کرناتھا اسے بھول جاتا ہے۔
حکایت: مجھے تو کوئی دکھائی ہی نہیں دیا
حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے دریافت کیا گیا:” آپ اس زمانے میں کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اپنی حالت کے سبب مخلوق سے بے خبر ہو؟“ فرمایا:”میں صرف ایک شخص کو جانتا ہوں جو عنقریب آئے گا۔“تھوڑی دیر گزری کہ حضرت سیِّدُناعُتْـبَۃُالْغُلامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہداخل ہوئے۔