Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
328 - 784
 دوسرے دن  غلام کو مالک سے خرید کر آزاد کردیا اور فرمایا:”دنیا میں تجھے اس بات  نے آزاد کیا اور میں  امید کرتاہوں کہ یہی بات آخرت میں بھی تیری آزادی کا باعث بنے گی۔“
دوسری فصل :			 مراقبہ کی حقیقت اور درجات
مُقَرَّبین کی معرفَتِ خُد اوندی:
	 مراقبہ کی حقیقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا لحاظ  کر نا اور اس کی  طرف  پوری  طرح متوجہ ہوناہے۔چنانچہ اگر کوئی شخص  کسی کےلحاظ کے باعث  کو ئی کام چھوڑ دے تو کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں کا خیال اور لحاظ کرتا ہے۔یعنی مراقبہ دل کی اس کیفیت کانام  ہے جو مَعرِفَتِ خُداوندی کاثمرہ ہےجس  کےسبب اعضاء اور دل میں کچھ اعمال پیدا ہوتے ہیں۔ایسی  کیفیت میں دل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےاحکام کالحا ظ کرتا،اسی کی جانب مشغول رہتا،اسی کی طرف متوجہ ہوتا،اسی کی ذات کو پیش نظر رکھتا اور اسی کی طرف رجوع کرتاہے۔
	اس کیفیت کانتیجہ وثمرہ مَعرِفَتِ خُدا وندی  یعنی اس بات کا علم ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دل کی باتوں پر مطلع ہے، پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے،بندوں کے اعمال  کو  دیکھ رہا ہےاور  ہرجان  کے  عمل سے واقف ہے۔ اس  پر دل کا راز اس طرح عیاں ہے جیسےمخلوق کے لئےجسم کا ظاہری حصہ عیاں ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عیاں ہے۔ جب اس طرح کی معرفت حاصل  ہو جائے اور شک یقین میں بدل جائے  تو یہ معرفت دل پر مکمل غلبہ حاصل کرلیتی ہےالبتہ بہت ساری چیزوں کا علم یقینی ہوتا ہے لیکن پھر بھی ان کا دل پر غلبہ نہیں آتاجیسے موت کا علم۔پھر جب دل پر معرفت کا غلبہ ہوگا تو دل رب تعالیٰ کی رعایت اور لحاظ کرنے کی طرف مائل ہوگا اور اس کی طرف اپنی توجہ رکھے گا۔اس معرفت کے ذریعے یقین حا صل کرنے والوں کو’’مُقرَّبین‘‘کہتے ہیں۔
مُقَرَّبین کے مراتب:
	مقربین کی دو قسمیں ہیں:(۱)…صِدِّیْقِیْن(۲)…اصحابِ یمین۔لہٰذان مقربین  حضرات کےمراقبہ کے بھی دو  مرتبے  قرار پائے۔
پہلامرتبہ:
	اس سے مراد  اُن مقربین کامر اقبہ  ہے جو صدیقین  ہیں،یہ بڑی عظمت وبزرگی والا مراقبہ ہے۔ اس