بڑی جسا رت یا کفر:
(16)…حضرت سیِّدُناحُمَیْدُالطَّویل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَکِیْل نے حضرت سیِّدُنا سلیمان بن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیسے کہا:مجھے کوئی نصیحت کیجئے!انہوں نے فرمایا:اگر تم تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے یہ سمجھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں دیکھ رہا ہے تو تم نے بڑی جسا رت کی اور اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ وہ تمہیں دیکھ نہیں رہا تب تو تم نےکفرکیا۔
(17)…حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:ہمیشہ اس ذات کو اپنے پیش نظر رکھو جس سے کوئی شےچھپ نہیں سکتی اور اسی ذات سے امیدلگا ؤ جوامیدوں کوپو را کر نے والی ہے اور اس کا خوف رکھو جو سزا دینے کا مالک ہے۔
منا فق کورب تعالٰی کا لحاظ نہیں ہوتا:
(18)…حضرت سیِّدُنافَرقد سَبْخِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے ارشا د فرمایا:منافق منتظر رہتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا،جب یقین ہوجائے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو برائی میں پڑ جاتا ہے۔منا فق کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا لحاظ نہیں بلکہ لوگو ں کا لحاظ ہوتا ہے ۔
حکایت:غلامی سے آزادی
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی جانب نکلا،ہم نے رات ایک مقام پر گزاری تو پہاڑ سے ایک چرواہا آیا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے فرمایا: ”اے چرواہے!اس ریوڑ میں سے ایک بکری مجھے بیچ دو۔“ چرواہے نے کہا: ”میں کسی کا غلام ہوں۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ”اپنے مالک سے کہہ دینا بکری کوبھیڑیئے نے کھالیا۔(1)“ اس نے عرض کی:”اللہ عَزَّ وَجَلَّتو دیکھ رہا ہے۔“حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن دینار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں:یہ سن کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضرت علامہ سیِّد محمد مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس کہنے میں یہ احتمال پایا جارہا ہے کہ جب آپ نے چرواہے کے ظاہری عمل کو اچھا دیکھا تو آپ نے اس کے باطن کودیکھنا چاہا کہ کیا یہ اپنے دین پر حقیقتاً عمل پیراہے یا یو ں ہی عادۃً ایسا کر رہا ہے لہٰذا آپ نے بطور امتحان اس سے یہ بات کہی۔( اتحاف السادة المتقین، ۱۳/ ۱۸۵)