Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
326 - 784
 وسلطنت سے تو باہر نہیں نکل سکتا۔
دل کی زینت:
(13)…حضرت سیِّدُنا سَہل بن عبداللہتُستَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں:انسان  کے دل کی زینت کے لئے سب سے  افضل و اشرف  چیز اس بات کا یقین رکھنا ہے کہ وہ جہاں  کہیں ہو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے دیکھ رہا ہے۔
(14)…کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اس آیت:
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ ؕ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰،البینة:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرے۔
	کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے ارشا د فر مایا: اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے رب کو دیکھتے ہو ئے  اپنے نفس کا محا سبہ  کرتے ہیں اور زاد ِ آخرت  تیا ر کرتے ہیں۔
پانچ چیزوں کے سبب جنت کا حصول:
(15)…حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے دریافت کیاگیا کہ بندہ  جنت کیسےحاصل  کرسکتا ہے؟ فرمایا:بندہ پانچ چیزوں سےجنت حاصل کرسکتاہے:(۱)…ایسی اِستقامت جس میں ٹیڑھاپن نہ ہو(۲)…ایسی  کوشش جس میں غفلت نہ ہو (۳)…ظاہر و باطن میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو اپنے سامنے دیکھنا (۴)…موت کی تیاری اور موت کا انتظاراور(۵)…حساب وکتا ب سے قبل اپنےنفس کا احتساب کرنا۔
	کسی شاعر نے کہا ہے:
اِذَا مَا خَلَوْتَ  الدَّھْرَ یَوْمًا فَلَاتَقُلْ		خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَیَّ رَقِیْبُ
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفُلُ سَاعَةً		وَلَا اَنَّ مَا تُخْفِیْہِ عَنْهُ یَغِیْبُ
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْیَوْمَ اَسْرَعُ ذَاھِبٍ  		وَ اِنَّ غَدًا لِلنَّاظِرِیْنَ قَرِیْبُ
	ترجمہ:(۱)…جب تو کسی دن تنہا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں تنہا ہوں بلکہ یوں کہہ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے  دیکھ رہا ہے۔
	(۲)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ایک گھڑی بھی غافل نہ سمجھ اور نہ  ہی  یہ  سمجھ کہ جو کچھ تو اس سے چھپا ئے گا وہ اس سے چھپ جائے گا۔
	(۳)…کیا تو نہیں دیکھتاکہ مو جو دہ دن کتنی تیزی سے  گزررہا ہے اور کل کا دن دیکھنے والوں کے قریب  ہو تا جارہاہے۔